اسلام آباد(کرائم رپورٹر) اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سینیٹ سیکریٹریٹ کے ملازم حمزہ خان کے اغوا اور قتل کیس میں سابق اسلام آباد پولیس افسر سید عارف حسین شاہ کو سزائے موت سنا دی۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر ملزم کو قتل، اغوا اور شواہد چھپانے کے الزامات میں سزا سنائی جبکہ دو شریک ملزمان کو عمر قید کی سزا دی گئی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے فیصلہ سناتے ہوئے سابق ایس پی عارف شاہ پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ شریک ملزمان صقلین علی شاہ اور صابر حسین شاہ کو بھی عمر قید اور جرمانے کی سزائیں دی گئیں۔
تحقیقات کے مطابق 29 سالہ حمزہ خان گزشتہ سال مارچ میں اسلام آباد سے لاپتہ ہوئے تھے۔ پولیس نے بعد ازاں ان کی لاش مانسہرہ کے علاقے خاکی میں سابق پولیس افسر کے آبائی گھر کے قریب سے برآمد کی، جہاں انہیں مبینہ طور پر قتل کے بعد دفن کیا گیا تھا۔
اے این ایف کا مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن، 4 ملزمان گرفتار
پولیس حکام کے مطابق حمزہ خان کو مبینہ مالی تنازع پر مانسہرہ بلایا گیا جہاں انہیں اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا۔ ملزمان نے واردات کے بعد مقتول کے موبائل فون استعمال کر کے تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ اسلام آباد واپس آچکے ہیں، بعد ازاں موبائل فون جی ٹین میٹرو اسٹیشن کے قریب پھینک دیے گئے۔
حمزہ خان کے اہل خانہ نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مقدمہ واپس لینے اور صلح کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، تاہم انہوں نے انصاف کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔











