لوگ جانے صحافیوں کے حوالہ سے کیا سوچتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا کا وہ طبقہ ہے جو سب کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتا ہے مگر اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہے۔ غالباً صحافت، موجودہ حالات میں یہ پاکستان کا واحد شعبہ ہو گا کہ جس میں آپ کا تجربہ جتنا زیادہ ہوتا جاتا ہے آپ کی تنخواہ کم بھی ہوتی جاتی ہے اور ملازمت سے برخاستگی کا خطرہ بھی بڑھتا جاتا ہے۔۔ یہاں تجربہ کے بجائے کم تنخواہ زیادہ اثر رکھتی ہے اور ہماری فیلڈ میں بے چینی اتنی ہے کہ اگر آپ کو کسی دفتر سے نکالا جائے تو آپ کے کئی دوست اگلے ایک گھنٹے سے پہلے آپ کے متبادل کے لیے اپنا کندھا پیش کرنے پہنچ جائیں گے
یہ کہنا آسان ہے کہ کوئی اور کام کیوں نہیں کرتے کیونکہ جس نے ساری زندگی یہی ایک کام کرنے میں گزارا ہو وہ کوئی اور کام کیسے کر سکتا ہے؟۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ صحافت کو سب سے زیادہ نقصان بھی کچھ صحافیوں نے پہنچایا۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے ایک پاؤ گوشت کے لیے دوسرے کا پورا بکرا ذبح کروا دیتے ہیں۔ ایڈیٹر بن کر آئیں تو ان کی خواہش ہوتی ہے کہ اخبار کے بجٹ کا 60سے 70فیصد خود ہی لے جائیں۔ صحافت سے نابلد ہوتے ہیں مگر کچھ اور قسم کی خصوصیات کی بنیاد پر مالکان کے قریب آتے ہیں اور پھر اخبار کو تالا لگوا کر ہی نکلتے ہیں۔
میرے والد مرحوم انوار فیروز سینئر صحافی تھے، میرے والدین یہ چاہتے تھے کہ ہم بہن بھائیوں میں سے کوئی بھی صحافت کے میدان میں قدم نہ رکھے، بدقسمتی سے تقریباً تمام ہی اس شعبے سے کسی نہ کسی طرح جڑے ہوئے ہیں لیکن اب سمجھ آئی ہے کہ امی جی اور ابو جی کیوں نہیں چاہتے تھے کہ ہم لوگ صحافی بنیں۔ آج جو حالات دیکھ رہے ہیں شاید انہیں ان حالات کا پہلے سے اندازہ تھا کیونکہ انہیں بھی عمر بھر نوائے وقت اخبار کے ساتھ وفاداری کے صلے میں اچانک نوکری سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ رمیزہ نظامی نے جس طرح نوائے وقت اخبار کی تباہی لگائی تھی میرے ابو جی بھانپ گئے تھے کہ اخبارات کے بعد اگلا نمبر الیکٹرانک میڈیا کا ہو گا اس لیے کہتے تھے کہ بیٹا صحافت میں تو آ چکے مگر اب وہ غلطی نہ دہرانا جو ہم نے کی، ہم نے صرف صحافت کی، ہوشیار لوگ کوئی نہ کوئی بزنس ضرور کرتے ہیں۔
میں راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کا صدر رہا پھر نیشنل پریس کلب کا دو مرتبہ سیکرٹری اور دو مرتبہ صدر رہا اور تیس سال سے زائد عرصہ صحافت کرنے کے بعد آج یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بہت بڑی غلطی کی تھی صحافت میں آ کر یا صحافت میں آنے کے بعد کوئی کاروبار کیوں نہیں کیا؟۔ کیوں صحافت کے ساتھ کاروبار کے تڑکے کو گناہ سمجھا۔
جب کوئی صحافی آ کر مجھے اپنے حالات بتاتا ہے اور مدد طلب کرتا ہے تو کلیجہ پھٹ جاتا ہے۔ ایک دوست کافی عرصے سے بیروزگار ہے جب رمضان میں اس نے بتایا کہ دو روز سے وہ اور اس کے بیوی بچے پانی سے روزہ کھول رہے ہیں۔ سحری کا تو تصور ہی نہیں ہے۔ اس کے بچے کئی ماہ سے سکول نہیں جا سکے۔ بیروزگاری کے پہلے تین ماہ میں موٹر سائیکل فروخت کر دی، پھر گاڑی بیچی اور پھر اب نوبت یہ آ چکی ہے کہ گھر برائے فروخت ہے۔۔ اس دوران جو اہلیہ کا زیور تھا وہ بھی فروخت ہو چکا۔ اب وہ سوچ رہا ہے کہ ایک رپورٹر کے طور پر نوکری کرتے ہوئے سائیڈ بزنس کیوں نہیں شروع کیا۔ بجلی بار بار کٹ جاتی ہے، سوئی گیس کا میٹر عدم ادائیگی پر تین بار اتارا جا چکا، مختلف دوستوں کے تعاون سے بل جمع کروا کے بجلی گیس بحال کرواتا ہوں۔
میں پریس کلب کا سیکرٹری تھا تو ایک روز رات گئے ایک صحافی دوست کا فون آیا جس نے بتایا کہ ہمارا ایک دوست فوٹو جرنلسٹ ہسپتال میں زیر علاج تھا وہ انتقال کر گیا ہے اور ہسپتال والے اس کی لاش نہیں دے رہے کہ پہلے ہسپتال کی فیس ادا کرو، چند دوستوں نے مل جل کر وہ رقم ادا کی تو ایک فلاحی ادارے کے نام پر بننے والے اس بڑے ہسپتال نے لاش ورثا کے حوالے کی۔ ایک اور سینئر صحافی جب دوران ملازمت انتقال کر گیا تو معلوم ہوا کہ اس کی بیوہ اور چھوٹے چھوٹے بچے دربدر ہو چکے کیونکہ صحافت وہ شعبہ ہے جہاں مالکان آپ کو ای او بی آئی میں بھی رجسٹر نہیں کرواتے کہ انہیں کہیں گریجویٹی یا پراویڈنٹ فنڈ نہ دینا پڑ جائے اس لیے جب وہ ملازمت چھوڑے یا مرے تو اگلے مہینے کے اخراجات کے لیے بھی کچھ نہیں ہوتا۔۔
اسی طرح ایک اور صحافی دوست میرے کندھے سے لگ کر رو پڑا۔۔ کہنے لگا کہ اس کے دونوں بچوں کو تپتی دھوپ میں سکول انتظامیہ نے گراونڈ میں کھڑا رکھا کیونکہ میں ان کی تین ماہ کی سکول فیس جمع نہیں کروا پایا کہ پچھلے چار ماہ سے مجھے تنخواہ نہیں ملی ہے، محلے کی دکان والے نے ادھار دینا بند کر دیا ہے اور کہتا ہے کہ ایسی کون سی نوکری ہے جہاں چار ماہ تنخواہ نہ ملے، اب پہلے پچھلے بقایا جات ادا کرو گے تو آئندہ سامان دوں گا۔
کیا کبھی کوئی اس بے چارے صحافی اور اس کے بچوں کے دکھ کو سمجھ سکتا ہے جس کے گھر کا سامان مالک مکان نے رات گئے سڑک پر پھینک دیا کیونکہ تین ماہ سے گھر کا کرایہ ادا نہیں کر پایا تھا؟۔ وہ اپنے بچوں کے ساتھ صبح تک سڑک کنارے بیٹھا رہا کہ رات گئے وہ کسی کو اپنا دکھ بھی نہیں بتا سکتا تھا۔ مینجمنٹ سے بات کریں تو وہ بتائیں گے کہ سرکاری اشتہارات کے بل حکومت نے نہیں دئیے جس کی وجہ سے وہ بھی تنخواہ نہیں دے سکتے حالانکہ ورکر کے ساتھ ہونے والے کنٹریکٹ میں کہیں یہ بات تحریر نہیں ہوتی کہ مالکان کو اشتہارات کی ادائیگی ہو گی تو تنخواہ دیں گے۔
ایک بزرگ اخباری مالک جو میرے والد کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں وہ مجھ سے ناراض ہیں کہ میں صحافیوں کے حقوق کی بات کرتے ہوئے تلخ کیوں ہو جاتا ہوں؟۔ ایک مرتبہ مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگے کہ میڈیا مالک اور صحافی، میڈیا ورکر کا رشتہ باپ بیٹے کا ہوتا ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے یہ بات ماننے میں کوئی اعتراض نہیں لیکن یہ کیسا باپ ہے جو خود تو ہر سال یورپ، امریکا کا چکر لگاتے ہیں مگر اس کے بچے (صحافی، میڈیا ورکر) یہاں بغیر تنخواہ کے مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔
مینجمنٹ یہ بتاتی ہے کہ ادارہ نقصان میں ہے لیکن یہ سمجھ نہیں آتا کہ ادارے کی مینجمنٹ خوشحال ہے مگر نیوز کا شعبہ بدحال، مالکان ایک اخبار سے دو اخبارات کے بعد نیوز چینل، اینٹرٹینمنٹ چینل، اسپورٹس چینل اور میوزک چینل کے لائسنس بھی خرید رہے ہیں مگر ادارہ نقصان میں ہے، یہ اور ان کی حقیقی اولاد تو ہر سال نئی گاڑیاں خریدتی ہے مگر ملازم بچے مشکلوں سے بنائے اپنے اثاثے فروخت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ یہ ملازمین کو تنخواہیں بھی نہیں دیتے اور دور جدید میں بھی انہیں اپنا یوٹیوب چلانے کی اجازت بھی نہیں دیتے، ان کے پاس اپنی مجبوریاں ہوں گی مگر خدا کے لیے ہمیں بھی بتا دیں کہ صحافی کدھر جائے؟۔۔
شہریاریاں ۔۔۔ شہریار خان
23ستمبر 2026۔۔۔











