تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
365 چرتر نار دے
تے سارا سال بندے نو مار دے
بھاڑ میں جائے تمہاری عزت۔
یہ ڈرامے کسی اور کے ساتھ کرنا ہے، میری زندگی خراب کر دی تم نے،مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا،
کیا مرد کی کوئی عزت نہیں ہوتی؟
کیوں مرد پلاسٹک کی بنی ہوئی کوئی چیز ہے ؟
اس کا دل نہیں ہے ؟اس کا دل نہیں دکھتا ؟اس کے آنکھوں میں انسو نہیں آتے؟اس کا دماغ نہیں پھٹتا تم لوگوں کے ان رویوں سے؟
تم تو جب چاہو خاوند کا موبائل چیک کر لو،
پاسورڈ بتانا، پاسورڈ بتانا پھر موبائل چیک کر کے بولو گی کہ یہ کون ہے ؟یہ کس کا نمبر ہے؟ یہ کس سے بات کر رہے تھے؟
اور اگر مرد پوچھ لیں کہ کس کا نمبر ہے تو تم لوگ رونا شروع کر دیتی ہو، بلیک میل کرتی ہو اپنے خاوندوں کو، اپنے بوائے فرینڈز کو۔
کہتی ہو کہ تم پر شک کیا جا رہا ہے اور جب تم اپنے شوہروں پر شک کرتی ہو تو انہیں تکلیف نہیں پہنچتی؟
شادی کے بعد تو تم لوگ بہت چالاک ہو جاتی ہو کیونکہ تم جانتی ہو کہ تمہارا شوہر اپنے بچوں کی وجہ سے مجبور ہے اب تمہیں چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا جبکہ تم لوگ ذرا ذرا سی بات پر دھمکی دے دیتی ہو۔
اپنے ابو کے گھر چلی جاؤں گی، بھائی کے پاس رہ لوں گی، امی آ کے لے جائیں گی ،
میں نہیں آتا اب تم لوگوں کی دھمکیوں میں۔
میں نے بڑی دنیا دیکھی ہے ،
یہ اپنے مگرمچھ کے آنسو دکھا کے تم لوگ ہزاروں سالوں سے مردوں کے آنسو نکلوا رہی ہو۔مرد کا تو دل روتا ہے،
اس کے آنسو اس کے دل سے نکلتے ہیں اور کوئی اسکا ہمدم نہیں ہوتا۔
اور تمہارا کیا ہے تم تو رونی صورت بنا کے سارے رشتہ داروں کو ،خاندان والوں کو ،بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ پوری دنیا کو اپنا رفیق بنا لیتی ہو۔ عورتوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ہر مرد دوزانو ہوا بیٹھا ہے، جو جھوٹی سچی کہانی تم لوگ سناتی ہو لوگوں کو تو مرد اس پہ یقین بھی کر لیتے ہیں سوائے تمہارے شوہروں کے۔
خبردار آئندہ اگر مردوں کو اس طرح بے وقوف بنایا تو میں تمہیں ننگا کر دوں گا ساری دنیا میں،
تم لوگوں کے مکرو فریب، جھوٹے آنسو،یہ سب کچھ میں بتا دوں گا ۔
ابھی میں برداشت کر رہا ہوں، سہتا ہوں بہت ساری چیزیں، خاموش رہتا ہوں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میری خاموشی کو تم اپنی جیت سمجھو
اور ویسے بھی کس بات کی جیت؟کون سی جیت ؟
اگر تم اپنے خاوند سے جیتو گی،اسے ذلیل کرو گی، اسے جھوٹے جال میں پھنسا کے مارو گی اور تم سمجھو گے کہ تم جیت گئی۔
نہیں تم ہار گئی۔
تم نے اپنا خاوند ہار دیا ۔
تم نے اپنے بچے ہار دیے ،
تم نے اپنی خوشی، اپنا سکون اپنی ذہنی صحت گنوا دی ۔
تم لوگ ہمیشہ مظلومیت کا رونا روتی رہی، اب میں یہ مظلومیت کارڈ اور زیادہ چلنے نہیں دوں گا۔
کسی بازار میں چلے جاؤ ،کہیں کسی محفل میں چلے جاؤ ،اگر کوئی لڑکی آپ کی جاننے والی ہے تو مرد کی جرات نہیں ہوتی کہ اس سے بات کرے، کبھی بھی نہیں کرتا ۔
جبکہ لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ ہو ،اپنے بھائی یا اپنے باپ کے ساتھ، بھرے بازار میں اگر اسے کوئی جاننے والا مل جائے گا تو کوئی بھی رشتہ استعمال کر کے، کوئی بھی حوالہ دے کر سب کے سامنے اس سے بات کر لے گی لیکن مرد، جی مرد کے تو پسینے چھوٹ جائیں اگر وہ لڑکی سے بات کرے کیونکہ اس کو پتہ ہے کہ لڑکی نے اس کو شٹ اپ کال دے دی یا پھر صرف اس کی طرف گھور کے دیکھ بھی لیا تو مرد کی ساری مردانگی چکنا چور ہو جائے گی
اور پھر تم کہتی ہے ہم مظلوم ہیں،
تم لوگ جب چاہو اپنے کزن کے کمرے میں دروازہ کھول کے داخل ہو سکتی ہے بغیر کھٹکھٹائے اور اس سے بات کر سکتی ہے
لیکن ہم تو اپنی کسی عزیز، کسی کزن ،کسی بہن کے کمرے میں بھی بنا دستک دیے داخل نہیں ہو سکتے۔
تم کہتی ہو کہ تم مظلوم ہو جبکہ جہاں جاؤ تم کو فوقیت ملتی ہے،
اتنے اتنے پڑھے لکھے لوگ ہیں نوکریاں لینے جائیں یا کسی اور مہم کو سر کرنے نکلیں تو وہاں ایک خوبصورت و جوان لڑکی تو چھوڑیں معمولی شکل و صورت کی بھی متعارف ہو جائے تو تمام مردوں کی شخصیت ماند پڑ جاتی ہے۔
تم کہتی ہو تمہارے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے، ہاں میں جانتا ہوں امتیازی سلوک ہوتا ہے اور یہ بہتری کی صورت میں ہوتا ہے۔ تم خواتین کو امتیاز حاصل ہے۔
اگر تمہارا خاوند تم سے ایک بار کہہ دے کہ اس سے بات نہ کرو
تو تم نے اس بات کو اتنا دل پہ لگا لیا ڈرامے باز کہ تم اس بات کا پیچھا ہی نہیں چھوڑتی اور کہتی ہو تمہاری کریکٹر ایسوسییشن کی ہے ۔
یہ جو تمہاری جھوٹی چوہدراہٹ ہے نا یہ شادیوں سے پہلے گھر چھوڑ کے آیا کرو تاکہ تمہارا اگلا گھر بس سکے۔
ہر وقت موقع کی طاق میں رہنا کہ کب خاوند کو شرمندہ کرنا ہے، کب اس پہ پریشر ڈالنا ہے، کب اس کو طعنہ دینا ہے، کب اس کو چوسنا ہے خون کے آخری قطرے تک۔
تم لوگ اس کو نچوڑ لیتی ہو اور پھر بھی روتی ہو کہ تمہیں اس سے کوئی خوشی نہیں ملی، کوئی سکون نہیں ملا ،
پھر بھی تم لوگ کہتی ہو کہ اس نے تمہارے لئے کیا کیا؟
میں بتاتا ہوں تمہارے شوہر نے کیا کیا ۔انہوں نے تمہیں اور بچوں کو پالنے کے لیے دو دو تین تین نوکریاں کیں،تم لوگوں کو کپڑے بنا کر دیے خود نئے کپڑے نہیں پہنے، تم لوگوں کو رشتہ داروں، فنکشنز اور شادیوں پہ لے جاتا رہا ہے اور خود اپنے دوستوں کی دعوتیں ٹھکراتا رہا۔
تم پوچھتی ہو تمہارے شوہروں نے تمہارے لیے کیا کیا؟
آؤ میں تمہیں دکھاؤں کہ گردے فیل ہو چکے ہیں جن لوگوں کے اور جو کینسر کے مریض ہیں، جو اس عمر کو پہنچ چکے ہیں کہ بچے ان ک خدمت کریں۔ ایک ٹانگ والےجو لکڑی کا سہارا لے کر چلتے ہیں، اپاہج ،پیرالائزڈ ہوئے شوہر، جو ویل چیئر پر آفس آتے ہیں۔ صرف اس لیے یہ لوگ کام کرتے ہیں کہ تمہارا اور تمہارے بچوں کا روزگار محفوظ ہو ۔
شیکسپیئر نے کہا تھا عورت تیرا دوسرا نام بے وفائی ہے،
سعدی شیرازی نے اپنی ماں کے بارے میں کہا تھا کہ عورت غیر مرد کی دو میٹھی باتوں سے پھنس جایا کرتی ہے،
حضرت علی نے فرمایا عورت سر تا پا شر اور خرابی ہے لیکن اس سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس کے بغیر رہا بھی نہیں جا سکتا۔
تو چلو چھوڑ دو،
میری باتوں کو نہیں مانتی تو قران کا حوالہ دوں؟
وہ تو تم لوگ مان لو گی نا؟
قران میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ عورت کا مکر عظیم ہے
تو اب جھٹلا لو اس بات کو اگر تمہارا بس چلتا ہے تو ،
روو اب ،جھوٹے ٹسوے بہاو کہ خدا نے ایسا کیوں لکھا ہے۔ سوری میں کچھ زیادہ ہی بول گیا ۔آج موڈ بہت خراب تھا ۔
چلو آخر میں کہانی سنو۔
سینکڑوں سال پرانی ایک کہانی ہے جو تم عورتوں کی مکرو فریب پہ پورا اترتی ہے۔
لو سنو پھر ،
ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک عورت نے اپنے شوہر سے کہا کہ یہ سامنے والا جو درخت ہے وہاں پرندے بیٹھتے ہیں اور جب میں نہاتی ہوں تو پرندے میرا جسم دیکھتے ہیں۔
یہ اس زمانے کی بات ہے جب چار دیواری میں ہی نہا لیا جا تا تھا
اس کا شوہر اتنا متاثر ہوا کہ اتنی پاک بیوی اس کو ملی اور وہ خوشی سے نہال ہو گیا ۔اس نے وہ درخت کٹوا دیا کہ وہاں پہ بیٹھ کے پرندے اس کی بیوی کو نہاتے ہوئے نہ دیکھیں۔
یہ شخص تجارت کے لیے جس سفر پر تھا وہاں اس نے دو لوگوں کو باتیں کرتے ہوئے سنا جو کسی عورت کا ذکر کر رہے تھے کہ وہ کیسی ہے، کہاں رہتی ہے، کیا کرتی ہے ،تو یہ فورا جان گیا کہ اس کی بیوی کی بات کر رہے ہیں۔
اس نے اور غور سے سنا، شخص بتا رہا تھا کہ اس عورت کی جسم میں مختلف جگہ پر تل ہیں جو اس کی جسم کی خوبصورتی کو نمایاں کرتے ہیں۔
اس شخص کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ یہ جسے دنیا کی پاکیزہ عورت سمجھتا تھا اس کے تو جنسی مراسم تھے
لہذا اس نے پروگرام بنایا ،اپنی بیگم کو بتایا کہ چار دن کے لیے شہر سے باہر جا رہا ہوں اور پھر چھپ گیا کہیں۔
دوسرے روز چھاپہ مارا گھر پہ تو ایک شخص کے ساتھ رنگے ہاتھوں اس کو پکڑ لیا تب یہ شخص اس کو چھوڑ کردوسرے شہر منتقل ہو گیا
حکمران خاندان میں ملازمت مل گئی، ایک بار اس حاکم اعلی کے گھر میں چوری ہوئی، وہ بہت پریشان ہوا ہے۔ اس شخص نے حاکم سے وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگا کہ ہمارے گھر میں تو کسی کا آنا جانا نہیں تو وہاں سے اشرفیاں کیسے چوری ہوئیں؟
جب یہ شخص جو بیوی کا ڈسا ہوا تھا اس نے معاملے کو مزید جانا تو پتہ چلا کہ ایک عالم، حاکم اعلی کے بچے کو پڑھانے کے لیے آتے ہیں اور وہ بھی ننگے پاؤں تشریف لاتے ہیں تاکہ ان کے پیروں سے حشرات العرض مر نہ جائیں کہیں۔
اس شخص نے حاکم سے کہا کہ اسی عالم کو پکڑو،
لہذا وہی ہوا عالم چور نکلا،جب اس کو دو لتر پڑے تو اس نے سب اشرفیاں برآمد کروا دیں ۔
اب حاکم بڑا چونکا اس نے پوچھا تو شخص نے بتایا کہ عالم کی شرافت سے اس کو شک ہوا
کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ
جو بہت زیادہ شرافت کا ڈھونگ رچانے والے ہیں وہی زیادہ بدکردار اور گنہگار نکلتے ہیں۔
شروع میں عنوان کا مطلب آخر میں سمجھا دیتا ہوں۔
365 کا مطلب ہے ایک سال کے 365 دن،
چرتر کے معنی ہیں چالاکیاں،
نار سے مراد ہے عورت،
یعنی ایک عورت سال کے 365 دن مختلف چالاکیاں کرتی ہے، مکاریاں کرتی ہے اور یہی چیز سارا سال اس کے بندے کو مارتی ہے۔
اور اگر آپ کو یہ سب پڑھ کر مزہ نہ آئے یا اس میں کچھ بے ترتیبی لگے تو اس میں میری صلاحیت کا نہیں بلکہ غصے کا قصور ہے کیونکہ آپ لوگ جانتے ہی ہیں کہ جب انسان اشتعال میں ہو تو منہ سے ایسی باتیں نکلتی ہیں جن کا نہ کوئی سر ہوتا ہے نہ پیر











