جمعه,  28  اگست 2026ء
برطانیہ میں پناہ کے متلاشیوں کے لیے ہوٹلوں کا استعمال ختم کرنے کی حکومتی کوشش

لندن(روشن پاکستان نیوز) برطانیہ میں پناہ کے متلاشی افراد کو سرکاری ہوٹلوں سے نکال کر گھروں، فلیٹس اور دیگر کمیونٹی رہائشی عمارتوں میں منتقل کرنے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس وقت تقریباً 70 ہزار پناہ کے متلاشی افراد ہوٹلوں کے بجائے کمیونٹی رہائش میں مقیم ہیں، جبکہ سرکاری ہوٹلوں میں رہنے والوں کی تعداد کم ہو کر تقریباً 16 ہزار رہ گئی ہے۔

مجموعی طور پر تقریباً 93 ہزار افراد اس وقت حکومت کی فراہم کردہ رہائش سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ان میں تقریباً 4 ہزار ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں، تاہم قانونی یا انتظامی وجوہات کے باعث وہ اب بھی سرکاری رہائش میں موجود ہیں۔

برطانیہ کی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے کہا ہے کہ حکومت کا مقصد اگلے عام انتخابات تک پناہ کے متلاشیوں کے لیے ہوٹلوں کا استعمال مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ ان کے مطابق حکومت زیادہ سے زیادہ افراد کو کمیونٹی رہائش میں منتقل کر رہی ہے تاکہ ہوٹلوں پر انحصار کم کیا جا سکے اور سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔

یہ پالیسی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ برس پناہ کے متلاشی افراد کو ہوٹلوں میں ٹھہرائے جانے کے خلاف برطانیہ کے مختلف علاقوں میں انتہائی دائیں بازو کے گروہوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا تھا۔ کئی ہوٹلوں کے باہر مظاہرے ہوئے، جس کے باعث حکومت کو سیاسی دباؤ اور عوامی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

پناہ کی درخواستوں میں 21 فیصد کمی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال برطانیہ میں 85 ہزار 891 افراد نے پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں، جبکہ اس سے ایک سال قبل یہ تعداد ایک لاکھ 6 ہزار 100 تھی۔ یوں ایک سال کے دوران پناہ کی نئی درخواستوں میں تقریباً 21 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

برطانیہ میں گھریلو توانائی کے بلوں میں ایک بار پھر اضافہ

حکام کے مطابق پناہ کی درخواست دینے والوں میں ایسے افراد بھی قابلِ ذکر تعداد میں شامل ہیں جو ابتدا میں قانونی طور پر اسٹڈی ویزا، گریجویٹ ویزا یا وزٹ ویزا پر برطانیہ پہنچے تھے، لیکن بعد میں انہوں نے پناہ کی درخواست دائر کر دی۔

اعداد و شمار کے مطابق اس گروپ میں تقریباً 8 ہزار 300 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں، جنہوں نے برطانیہ پہنچنے کے بعد مختلف وجوہات کی بنیاد پر سیاسی یا انسانی بنیادوں پر تحفظ طلب کیا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ہوٹلوں سے کمیونٹی رہائش کی جانب منتقلی نہ صرف رہائشی نظام کو زیادہ پائیدار بنانے میں مدد دے گی بلکہ پناہ کے نظام پر آنے والے اخراجات میں بھی کمی لائے گی۔

مزید خبریں