آج صبح سینئر صحافی اور بڑے بھائیوں جیسے دوست محترم جمیل مرزا کی فیس بک وال پر ایک پوسٹ پڑھی، پوسٹ کیا ہے پولیس کھلی کچہری میں اپنے دبنگ فیصلوں سے نام بنانے والے احمد محی الدین کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا نوحہ ہے۔ بلاشبہ آپ کو افسوس ضرور ہوتا ہے کہ ایک ایسا شخص جو پولیس کا بوسیدہ نظام درست کرنا چاہتا تھا وہ اپنے مستقل سے، پولیس اصلاحات کے نظام سے مایوس ہو کر اپنا مشن ادھورا چھوڑ گیا۔۔
یہ نقصان کسی کا نہیں، اس ملک کے غریب عوام کا ہے جو مدعی ہوتے ہوئے بھی پولیس سٹیشن جاتے ہوئے ڈرتے ہیں، ڈرتے ہیں کہ جو چور، ڈاکو سے بچ گیا ہے وہ سنتری بادشاہ اور تفتیشی کے چائے پانی کی نذر نہ ہو جائے۔۔ یہاں ہم نے بہت سے واقعات دیکھے ہیں جس میں مدعی بے چارہ ملزم بن جاتا ہے۔۔ ایسے تفتیشی اور ایسے سنتری بادشاہ کھلی کچہری میں احمد محی الدین کا سامنا کرتے ہوئے کانپتے تھے۔۔ کیونکہ انہوں نے جو غلط کیا ہوتا تھا وہ احمد محی الدین کی تیز نظریں پکڑ لیتی تھیں۔۔ کتنے ہی ایسے تفتیشی، ایسے ایس ایچ اوز معطل، لائن حاضر ہوتے دیکھے جنہوں نے غریبوں پر ظلم کیا ہوتا تھا۔
جمیل مرزا لکھتے ہیں کہ جب 10اکتوبر 2025 کو میری ڈی پی او چکوال احمد محی الدین سے انکے دفتر میں ملاقات ہوئی اور اس ملاقات کو اپنے لیے باعث فخر لکھا مگر مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ظلم ناانصافی جبر لا قانونیت کے خلاف نبرد آزما ڈی پی او احمد محی الدین بہت جلد اس نظام میں بہتری آنے سے مایوس ہو جائے گا اور پولیس سروس کو قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر خیر آباد کہہ دے گا اور بدقسمتی سے ایسا ہو چکا ہے جس کا مجھے دلی طور پر دکھ ہوا کہ ہم نے ایک اچھا پولیس آفیسر کھو دیا وجوہات کیا بنین پھر کبھی سہی ۔۔احمد محی الدین جہاں بھی پوسٹ ہوا غریبوں کے دکھ کا مداوا کرتا رہا جرائم پیشہ ان سے گھبراتے تھے مگر آج کہنے دیجئے انکے جانے سے پولیس فورس ایک اچھے آفیسر سے محروم ہوگئی ہے دعا ہے کہ پولیس فورس کو ایسے متعدد احمد محی الدین مل جائیں تاکہ ناانصافی ظلم۔ جبر کے خلاف احمد محی الدین کی شروع کی گئی جدوجہد جاری رہے۔
جمیل مرزا کی دعا کو رب کریم قبولیت بخشے کیونکہ ملک کا ہر شریف شہری جس کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جائے، اس کے گھر چوری ہو جائے، اس کا فون، نقدی ڈاکو لوٹ کر لے جائے، پولیس کو بلاتے ہوئے ڈرتا ہے مگر احمد محی الدین کی کھلی کچہری میں وہ سینہ تان کر جاتا ہے، اسے معلوم ہوتا ہے کہ عدالت سے بھی شاید انصاف نہ ملے یا ملے بھی تو بہت دیر سے ملے مگر احمد محی الدین فوری طور پر وہیں کھڑے کھڑے انصاف کر دیتے ہیں۔
بہنوں کی جائیداد کا حصہ کھا کر اسے عدالتوں کے چکر لگوانے والے بھائیوں کے پاس کھلی کچہری میں جانے کے بعد وہ جائیداد نہیں رہتی تھی۔۔۔ ملزم سے مل کر مدعی کو ذلیل و خوار کرنے والے اہلکار کی ٹانگیں احمد محی الدین کے سامنے جاتے ہوئے ڈرتے تھے کہ وہ ان کی آنکھوں میں جھانک کر معلوم کر لیتے تھے کہ کتنی رقم لینے کے بعد ملزم بے گناہ اور مدعی قصوروار ہوا۔
شاعر نے کہا تھا۔۔ ہم دعا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے، ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم بنا دیا۔۔ یہاں تفتیشی ایسا نقطہ خود ڈال دیتے ہیں کہ مدعی ہی ملزم بن جائے اور پھر کچھ لے دے کر جان چھڑائے۔۔ یہاں مخالف پارٹی سے پیسے لے کر زمین کے مالک کو ہی قبضہ مافیا ثابت کرنا کون سا مشکل ہے۔۔ یہاں بڑے بڑے قبضہ مافیا اسی لیے آسانی کے ساتھ لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں کہ کسی بھی مقدمے کی ضمنی میں زمین کے اصلی مالک کا نام ڈال دیا جاتا ہے، وہ معصوم اپنا نام نکلوانے کے لیے عدالتوں کے چکر لگاتا لگاتا تھک جاتا ہے۔۔ ایسے میں قبضہ مافیا کے کارندے اسے راستہ دکھاتے ہیں کہ ہمارے ساتھ صلح کر لو، ہم اس کیس سے تمہاری جان چھڑوا دیتے ہیں۔ اس میں تفتیشی نے عدالت میں بیان ہی دینا ہے کہ تفتیش میں بے گناہ ثابت ہوا۔۔ مگر بے چارے کو بے گناہی کا یہ سرٹیفکیٹ اپنی زمین دے کر ہی مل سکی۔
راولپنڈی اسلام آباد میں بھی لاکھوں نہیں تو ہزاروں یا سینکڑوں ایسے شہری مل جائیں گے جو کوئی ایسا افسر تلاش کرنا چاہتے ہیں جو انہیں انصاف دلوا سکے۔۔ عدالتوں کا شکوہ بھی یہی ہوتا ہے کہ پولیس کی تفتیش اور چالان ہی ملزم کو سزا دلوا سکتا ہے مگر ہوتا ایسے ہے کہ چالان جان بوجھ کر اگر ڈھیلا بنا دیا جائے، ایک سطر اضافی ڈال کر یا ایک سطر نکال کر کیس کا نقشہ ہی تبدیل کر دیا جاتا ہے جس سے اکثر شہری انصاف نہیں پا سکتے۔
یہاں تو پولیس کو کال کریں تو تھانہ کی حلقہ بندی کا تعین بھی آپ کو کرنا ہوتا ہے۔۔ جیسے بحریہ ٹاون، میڈیا ٹاون، کورنگ ٹاون، پی ڈبلیو ڈی سمیت جو بھی علاقے ہیں یہ پنجاب کواپریٹو کے ماتحت ہیں اور پنجاب کا علاقہ ہیں مگر یہاں پولیس اسلام آباد کی ہے۔۔ یہاں لوہی بھیر تھانہ وفاقی پولیس کا ہے مگر یہ علاقہ پنجاب کا ہے۔ یہاں اگر آپ ون فائیو پر کال کریں تو وہ آپ کو پنجاب پولیس سے ملا دے گا، وہ کہیں گے کہ آپ اسلام آباد کے ون فائیو پر کال کریں۔ وہ نمبر آپ لیں گے پھر وہ نمبر ملائیں گے تو اتنی دیر لگ جاتی ہے کہ سمجھیں کہ بعض اوقات بہت دیر ہو جاتی ہے۔
کسی اور کی کیا مثال دوں، مجھے شعبہ صحافت میں 32برس سے زیادہ عرصہ گزارنے کے بعد اب بھی پولیس سٹیشن جاتے ہوئے خوف آتا ہے۔ میرے گھر چار سال میں دو مرتبہ چوری کی واردات ہوئی، پہلی مرتبہ پولیس بہت مستعدی سے آئی مگر بعد میں بتایا کہ فنگر پرنٹس نہیں ملے اس لیے کچھ نہیں ہو سکتا۔۔ دوسری مرتبہ ایک سال قبل چوری ہوئی، پولیس کو کال کرنے کے بعد ایک تفتیشی پرائیویٹ گاڑی میں ایک پولیس سپاہی اور ایک ہتھکڑی لگے ملزم کے ساتھ آیا۔ وہ گھر کے اندر شاید دس قدم چلا اور پھر واپس نکل گیا۔ جاتے جاتے مجھے کہہ گیا کہ فنگر پرنٹس والے آئیں گے وہ کارڈ تھانے جمع کروا دینا، اسے سی سی ٹی وی فوٹیج کا ایک حصہ دکھایا۔ باقی فوٹیج اس نے مانگی نہ اس حوالہ سے کوئی بات کہی۔
اس کے بعد مختلف ذرائع سے معلوم کروایا تو پتا چلا کہ تفتیشی نے اعلیٰ افسران کو یہ رپورٹ دی ہے کہ چوری کچھ بھی نہیں ہوا جبکہ میں اعلیٰ افسران کی منت کرتا رہا کہ جیو فینسنگ کروائیں تو معلوم ہو گا کہ چور ایک نہیں کئی تھے اور وہ تین گھنٹے سے زیادہ آرام سے چوری کر کے نکل گئے مگر افسران کو سلام ہے کہ جیو فینسنگ نہیں کروائی مگر تفتیشی کی بات مان کر کیس کی فائل دبا دی۔۔ افسوس یہ ہے کہ احمد محی الدین جیسا کوئی افسر یہاں اسلام آباد میں دستیاب نہیں جو فوری طور پر تفتیشی سے پوچھتا کہ تم نے کس ذریعے سے یہ پتا چلایا کہ کچھ بھی چوری نہیں ہوا؟۔ لیکن اب یہ جان کر واقعی دکھ ہو رہا ہے کہ ایک ایسا افسر چلا گیا جسے کئی مظلوم اپنا سہارا سمجھ کر جاتے تھے اور خوشی خوشی واپس آتے تھے۔ آج وہ لوگ واقعی مایوس ہوں گے اور کرپٹ مافیا ضرور خوش ہو گا۔
جمیل مرزا لکھتے ہیں کہ احمد محی الدین کو یہ صلاحیت اور سوچ میراث کے طور پر ملی ہے یہ انکے والد کی تربیت کا نتیجہ ہے جس والد نے بیٹے کے مشورہ طلب کرنے پر یہ مشورہ دیا تم ڈی پی او ہو تو تمہیں تمہارا دوست گاڑی یہ کہہ کر دے رہا ہے جب پیسے ہوئے دے دینا تو تم اس وقت گاڑی لینا جب تمہارے پاس اپنے پیسے ہوں یہی مناسب رہے گا وگرنہ گاڑی دینے والے کے غلط کام بھی کرنے پڑیں گے پھر بیٹے نے باپ کے مشورے پر سر تسلیم خم کیا بغیر ذاتی گاڑی کے پہلا پولیس آفیسر ڈی پی او چکوال احمد محی الدین ۔سیلوٹ ٹو گریٹ فادر سیلوٹ ٹو گریٹ سن











