هفته,  11 جولائی 2026ء
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں جو لوگوں نے پھیلائی ہیں۔
کوئی ہمیں یہ کیوں نہیں بتاتا

 تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں
جو لوگوں نے پھیلائی ہیں۔یہ

ایسی ڈھیر ساری جھوٹی باتیں ہیں جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ ۔ کوئی تعلق نہیں جو لوگوں نے پھیلائی ہیں اور انہوں نے ہمارے اذہان پر قبضہ کر رکھا ہے
اور اس سے بھی بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ پھر ہم ان موضوعات پر سوچتے بھی نہیں ہیں کیونکہ ہمارے ذہنوں پر تالے پڑے ہیں۔
ایسی بہت ساری باتیں جنہوں نے انسانیت کو نقصان پہنچایا ہے ان میں سے صرف دو ایک باتوں کا ہی میں آرٹیکل کے تنگی کے باعث تذکرہ کر سکوں گا،

مثلا کہا جاتا ہے کہ

(جو تمہیں چھوڑ گیا اسی کا نقصان ہے ۔)

اب یہ کتنی بےہودہ بات ہے، ہم ہر کسی سے یہی کہتے ہیں کہ (جو تمہیں چھوڑ گیا اسی کا نقصان ہے۔) بھول جاؤ اس کو ،
اگر کسی کا دوست کسی کو چھوڑ جائے ،
کسی کی محبوبہ اس سے علیحدگی اختیار کر کے کسی اور لونڈے کے ساتھ بھاگ جائے
یا کسی کا دوست اسے بزنس میں لاکھوں روپے کا تھوک لگا دے تو ہم بلا توقف یہ کہتے ہیں کہ اچھا ہوا وہ چلا گیا یا چلی گئی، اس میں اسی کا نقصان ہے کہ تمہارے جیسے اچھے انسان کو اس نے چھوڑ دیا اور وہ ساری زندگی بعد میں پچھتائے گا یا پچھتائے گی۔

اب ہم اس کو یہ نہیں کہتے کہ بھائی اپنے آپ کو بھی دیکھو،
ہو سکتا ہے تمہارا ہی کوئی قصور ہو،
ہو سکتا ہے تمہارے رویے سے ہی وہ چلا گیا ہو یا چلی گئی ہو،
ہو سکتا ہے جو تم نے لاکھوں روپے کا نقصان اٹھایا اس میں تم سے کوئی کوتاہی ہوئی ہو،
لیکن ہم جب کہتے ہیں کہ جو تمہیں چھوڑ گیا اس نے اپنا بڑا نقصان کیا ہے تو یہ جملہ ہم کو تھوڑی دیر کے لیے تو تسلی ضرور دیتا ہے لیکن ہمیں اپنی کمیوں، کوتاہیوں، گناہوں اور جرموں پر سوچنے کا راستہ نہیں دیتا۔
بھائی میں تو کہتا ہوں جو تمہیں چھوڑ کر چلا گیا ہو سکتا ہے وہ تمہارے اعمال ،کردار کی وجہ سے گیا ہو،
ہو سکتا ہے اسے پتہ چل گیا ہو کہ تم ایک فراڈیے انسان ہو یا وہ لڑکی جسے تم کہتے ہو کہ تمہیں اس نے دھوکہ دیا ہے ہو سکتا ہے اس نے کہیں چیک کر لیا ہو کہ تمہارے اور لڑکیوں کے ساتھ بھی مراسم ہیں۔
تو اے بے وقوف انسان اس بات سے کبھی مطمئن نہ ہونا کہ جو تجھے چھوڑ گیا اس میں اسی کا نقصان ہے۔
ہو سکتا ہے اس میں تمہارا بڑا نقصان ہوا ہو۔
میرے ساتھ بھی ایسا کئی بار ہوا۔
میں بھی ساری زندگی یہی سوچتا رہا کہ وہ مجھے چھوڑ گئی، میرے جیسے اچھے انسان کو اس نے رد کر دیا ،اس نے مجھے دھوکہ دیا، کسی اور کے ساتھ اب وہ پھرتی ہے، اس سے اس کا اپنا ہی نقصان ہے، اس نے اپنے آپ کے ساتھ ظلم کیا ہے۔
میں بھی سوچتا تھا کہ وہ جو دوست جو آج میرے ساتھ نہیں ہیں اور انہوں نے اپنی نئی دوستیاں بنا لی ہیں اس میں ان کا ہی نقصان ہے، میرے جیسے اچھے انسان کے ساتھ وہ گزارا نہیں کر سکے تو کسی اور کے ساتھ کیا کریں گے؟
کئی سالوں بعد مجھے پتہ چلا کہ کہ او بھائی شہریار تیرے اپنے میں بھی قصور ہے،
تو کسی کو موقع ہی نہیں دیتا بات کرنے کا،
کوئی اگر تیرے آگے شیخی بگھارتا ہے،
اپنی عزت بنانے کی کوشش کرتا ہے،
تجھ سے جھوٹ بولتا ہے تو تیرا کیا جاتا ہے؟
لیکن تو ہمیشہ اس کو ٹوک دیتا ہے
اور تو ہمیشہ سچائی کا طرفدار بن کے لوگوں کے منہ پہ سچ بول دیتا ہے ۔ اور سچ تو لوگوں کے بارے میں نہیں اپنے بارے میں بولنا چاہیے۔
کون پسند کرتا ہے ایسی بات کو؟
تو شہریار صاحب تمہاری زندگی میں کتنے اچھے لوگ آئے،
لڑکیاں، مرد آئے،
کہاں ہیں وہ سب لوگ؟
آج تمہیں خود احساس ہوا ہے نا کہ تمہاری بھی غلطیاں تھیں اور تم چھوٹی چھوٹی باتوں پر رنجیدہ ہو جایا کرتے تھے۔
تم چھوٹی چھوٹی باتوں پر ان سے بحثیں کیا کرتے تھے،

تو اس لیے اب آپ لوگوں کو بھی میں بتا دوں کہ یہ بکواس ہے کہ (جو تمہیں چھوڑ گیا اس میں اس کا اپنا ہی نقصان ہے )
تم لوگ کو اپنی ذات پر بھی غور کرنا ہے کہ جو تمہیں چھوڑ گیا خدا نے اسے تمہارے شر سے محفوظ کر دیا ۔
تو ذرا سوچو، سوچو !سوچو میرے دوستو
اور اگر سمجھ نہ آئے تو مجھ سے پوچھ لینا میں دوبارہ ایکسپلین کر دوں گا
اور دوسری بات اگلے آرٹیکل میں

اللہ حافظ

مزید خبریں