جمعه,  10 جولائی 2026ء
کوئی ہمیں یہ کیوں نہیں بتاتا
کوئی ہمیں یہ کیوں نہیں بتاتا

تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

کوئی ہمیں یہ کیوں نہیں بتاتا

کہ اتنا اچھا نہ بنو کہ خود کو بھول جاؤ ،
ہماری زندگیوں میں ہمارے ساتھ جو بڑے بڑے دھوکے ہوئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہمیں ہمارے بڑوں نے ہمیشہ یہی سمجھایا ہے کہ اچھا انسان بنو۔
ہمیں صرف اچھا بننا سکھایا جاتا ہے، لوگوں کے کام آؤ،اتنا اچھا بنو کہ دنیا تمہاری پیٹھ پیچھے تمہاری تعریف کرے اور پھر ہم ایسا ہی کرتے ہیں،
لوگوں کو خوش کرتے ہیں لیکن کبھی کوئی ہمیں خوش نہیں کرتا، ہم لوگوں پر اپنا وقت صرف کرتے ہیں، ان کو اپنی زندگی دیتے ہیں لیکن ہماری کوئی پرواہ نہیں کرتا۔
ہم جب بہت اچھا بننے کی کوشش کرتے ہیں، دوسروں کے کام آنے کے لیے آگے بڑھ بڑھ کر اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں تو ہمارے دماغ میں بھی کہیں نہ کہیں یہ خواہش ضرور ہوتی ہے کہ ہمیں بھی اس کا اچھا صلہ ملے گا لیکن نتائج اس کے برعکس ملتے ہیں ۔
ہماری اچھائیوں کا صلہ نہ ہی ہمیں دنیا سے ملتا ہے اور نہ ہی خدا سے۔
پھر ایک دن ہم بالکل مایوس ہو جاتے ہیں اپنے آپ سے، اپنی تقدیر سے ،اپنے خدا سے۔
ہم لوگوں کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ ہم اپنی اولاد کو اچھا بننے کی ترغیب دیتے ہیں۔
لیکن اچھا بننے والے اکثر اندر سے بکھر جایا کرتے ہیں۔ کوئی ہمیں اس گھات بھری دنیا سے بچنے کی ترکیب نہیں بتاتا؟
کوئی ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ خود کو مطلب پرست اور مفاد پرست لوگوں سے کیسے بچانا ہے؟
اس لیے بھائی میں نے تو اپنے بیٹے راحم کو سمجھا دیا ہے کہ یہ دنیا اچھے لوگوں کی عزت کم اور اسے استعمال زیادہ کرتی ہے۔
میرے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد میری یہ باتیں میرے بیٹے کو یاد آئیں گی اوراگر وہ ان پر عمل کرے گا تو کم دکھی ہوگا۔

ایک اور بات

میں نے اپنے بچے کو جو کہ ابھی صرف 11 برس کا ہے یہ بھی سکھایا ہے کہ جو غلطیاں میں نے کیں ہیں وہ اس سے سرزد نہ ہوں۔
میں نے اسے بتایا ہے کہ حالات جیسے بھی اور جتنے بھی برے ہوں ،تمہیں پرسکون رہنا سیکھنا چاہیے۔
جس دن تمہیں سمجھ آ جائے گی کہ تمہاری سب سے بڑی دشمن تمہاری اپنی ذات ہے، اس دن تم ایک نئی زندگی پاؤ گے۔
تمہیں یہ جاننا ہوگا کہ تمہارے حالات تمہارے دشمن نہیں،
جو لوگ تمہیں تنگ کرتے ہیں وہ قصوروار نہیں
بلکہ یہ تمہارا ان باتوں پر رد عمل ہے اور تمہارے اندر کا شور ہے جو تمہارا دشمن ہے
کیونکہ بیٹا جب زندگی اچھی چلتی ہے تو کوئی شانت بننا نہیں سیکھتا۔
شانتی کی یاد تو تب آتی ہے جب سب کچھ ہاتھ سے نکلنے لگتا ہے، جب تمہاری طرف کوئی آتا نہیں،
جب فون نہیں بچتا ،
جب کہیں سے کوئی جواب نہیں آتا،
جب تمہیں محنت کا پھل نہیں ملتا اور جب رات بہت لمبی ہو جاتی ہے اور صبح کی کرن دور دور تک نظر نہیں آتی۔
میرے بیٹے تب انسان کا من بھاگتا ہے،
بے چین ہوتا ہے،
بے سکون ہوتا ہے۔
بس وہی وہ لمحات ہیں جب تمہیں پرسکون رہنا ہے ۔پرسکون اور شانت رہنا سیکھنا ہے۔ چاہے اس کے لیے تمہیں عبادت کرنا پڑے ، لمبے لمبے سجدے کرنا پڑیں یا پھر گھنٹوں یوگا کی مشق کرو، بس مشکل میں ہمیشہ صبر اور سکون میں رہنا سیکھنا ہوگا تمہیں ایک اچھی زندگی گزارنے کے لیے کے لیے۔ میں نے یہ بتایا ہے اپنے بیٹے راحم کو۔

اگلا موضوع

غربت اور جہالت میں ایک سیکسی رشتہ ہے۔

میں بہت سے دانشوروں کو، سیاست دانوں کو ،سلیبرٹیز کو جب یہ کہتے دیکھتا ہوں کہ
میں چاہتا ہوں کہ قوم محنت کرے،
میں چاہتا ہوں کہ ہماری قوم آگے بڑھے
اور میں چاہتا ہوں کہ قوم لوجیکل ہو تو یہ باتیں سن کر مجھے کوفت ہوتی ہے۔
بھائی ایک بات بتاؤ، انسان خالی پیٹ ہو اور فلسفیانہ باتیں کرے یہ کیوں کر ممکن ہے؟
معدہ دو وقت کا بھوکا ہو، سر میں درد ہو رہی ہو تو کون انسان لوجیکل گفتگو کر سکتا ہے یا سن سکتا ہے؟
ایسے موقع پر کس کو ایسی باتیں سمجھ آتی ہیں یا کوئی فلسفیانہ گفتگو کر سکتا ہے؟
غربت اور مفلسی میں کوئی قوم کیسے ترقی کر سکتی ہے۔
غربت اور جہالت میں ایک بڑا سیکسی ریلیشن شپ ہے۔ پہلے وہ سمجھنا چاہیے کیونکہ غربت اور جہالت ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے۔
دنیا میں جتنے اچھے کام ہوئے ہیں وہ بھرے پیٹ والوں نے ہی تو کئے ہیں ۔ کیا آپ نہیں جانتے؟
یورپ کو دیکھ لو ،امریکہ کو دیکھ لو، جتنی سائنسی ایجادات ہو رہی ہیں،جتنی مادی ترقی ہو رہی ہے، طبیعات، سیاروں اور طب کے حوالے سے جو ممالک باقی دنیا کو چونکا دیتے ہیں ، جو انہیں پیچھے چھوڑ گئے ہیں وہ سب کام پیٹ بھر کر کرتے ہیں۔
بھوکے پیٹ والے کے دماغ میں تو صرف وارداتیں آتی ہیں، اچھے اور اچھوتے خیالات نہیں آتے۔
دنیا میں کون سا خالی پیٹ، فلسفی پیدا کرتا ہے یا فلسفہ بگھار سکتا ہے ۔
ساری مصیبتوں ، جرموں اور گناہوں کی جڑ غربت ہی ہے بھائیو۔
90 فیصد جرائم تو دنیا میں صرف مفلسی کی وجہ سے ہوتے ہیں لہذا ایسے دانشور و فلسفیوں اور سیاست دانوں سے میں یہی درخواست کروں گا کہ پہلے خالی پیٹوں میں کوئی اناج ڈالیں پھر ان کے منہ سے کوئی لوجیکل بات نکلے گی۔

مزید خبریں