هفته,  04 جولائی 2026ء
اسحاق ڈار کے کچھ لگتے /ہاف فرائی یا فل فرائی ؟
اسحاق ڈار کے کچھ لگتے /ہاف فرائی یا فل فرائی ؟

تحریر: سید شہریار احمد

ایڈوکیٹ ہائی کورٹ۔

اسحاق ڈار کے کچھ لگتے /ہاف فرائی یا فل فرائی ؟

پاکستان میں لاہور کے علاقے ڈیفنس میں صاحب اختیار و اقتدار، نائب وزیراعظم جناب اسحاق ڈار کے مبینہ نواسے کی، مبینہ طور پر ہالینڈ اور ونزویلا کی دوشیزاؤں کے ساتھ بلیک میلنگ، اغواء ،تشدد، اجتماعی جنسی زیادتی کی خبریں میڈیا میں نشر اور ٹیلی کاسٹ ہو رہی ہیں
اور امیروں اور خاص طور پر حکمرانوں کے دشمن عوام صبح و شام چیخیں مار رہے ہیں کہ اب مریم نواز، شہباز شریف! اسحاق ڈار، سی ٹی ڈی ،پولیس سب کا امتحان ہے کہ وہ ان مجرموں کو ہاف فرائی کرتی ہے یا فل فرائی؟

ان کا یہ کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور انصاف ہونا چاہیے. اگر غریبوں کے بچے جنسی زیادتی پر نیفے میں اپنی ہی غلطی سے پستول کا ٹریگر دبا کر اپنے اس عضو سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں تو اسے ہاف فرائی کہتے ہیں اور اگر ایسا مجرم، سی ٹی ڈی یا پولیس سے مقابلے کے دوران ہلاک ہو جائے تو وہ فل فرائی کہلائے گا۔
اب ہمارے ملک کے نیم صحافی اسے حکمرانوں، انتظامیہ اور عدلیہ کا امتحان گردانتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان امیر والدین کے بچوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جائے جیسا کہ غریب مجرموں کے ساتھ ہوتا ہے تو یہاں میں ان نام نہاد دانشوروں ،صحافیوں اور اینکرز کی تھوڑی اصلاح کرنا چاہوں گا۔

یہ نہایت ہی بےہودہ اور لغو دلیل ہے کہ انصاف ہونا چاہیے،
انصاف کا تصور کائنات میں آپ کہیں بھی نہیں دیکھتے ،
ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شیر ایک کمزور جانور کو چیر پھاڑ کر اپنا پیٹ بھرتا ہے ،
دوسری طرف ہم فضاؤں میں دیکھیں تو بڑا پرندہ ایک چھوٹے پنچھی کو اپنے بڑے نوکیلے پنجوں میں دبوچ کر اپنی بڑی باریک چونچ سے اس کے جسم کے پرخچے اڑاتا ہے۔
سرمایہ دار ،زمیندار ،مزدوروں اور کسانوں کا استحصال کرتے ہیں۔
ہم اگر اپنے خاندان میں ہی نظر دوڑائیں تو ہمیں وہاں بھی انصاف کی تلاش میں ناکامی ہوتی ہے۔
اکثر ان بچوں کو زیادہ توجہ دی جاتی ہے جو گھر کو مالی طور پر اچھے طریقے سے سنبھال سکیں۔
ان شوہروں کو جو سالہا سال اپنے بیوی بچوں کی خدمت کر کے اپنی جوانی برباد کر بیٹھے لیکن کسی ناگہانی سے اپاہج یا بیمار ہو گئے تو ان کا بھی اپنی فیملی میں وہ مقام نہیں رہتا اور ان کے ساتھ انصاف نہیں ہو پاتا۔
انصاف کا تصور انسان نے خود گھڑا ہے، ورنہ خدا کی طرف سے کسی کے ساتھ کوئی انصاف نہیں ہوا
لیکن ہمیں مجبورا کہنا پڑتا ہے کہ انتظار کرو،
اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے ،
اس نے ڈھیل دے رکھی ہے،
وہاں دیر ہے اندھیر نہیں،
ایک دن ضرور انصاف ہوگا
اور اگر کوئی انسان 60/ 70 سال اپنی زندگی گزارنے کے بعد اللہ کو پیارا ہونے لگے تو اسے یہ تسلی دی جاتی ہے کہ روز محشر اللہ حساب کرے گا اور تمہارے ساتھ انصاف ہوگا۔

بہرحال یہ امیری اور غریبی کی جنگ ہے اور اس جنگ میں ہمیشہ امیر ہی جیتے ہیں ،
سینکڑوں، ہزاروں سال کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کبھی کسی کمزور نے طاقتور پر فوقیت حاصل نہیں کی تو جو لوگ ان نوجوان ،خوبصورت ،حسین دوشیزاؤں کے ساتھ زیادتی کے مرتکب مجرموں کو سزائیں دلوانا چاہتے ہیں وہ خاطر جمع رکھیں کیونکہ ان کے طاقتور ابا کوئی مک مکا کر لیں گے عدالت سے یا پھر ان لڑکیوں کو کمپنسیشن دے دی جائے گی جو کہ اس کیس میں ممکن نہیں لگتا کیونکہ دونوں حسینآئیں غیر ملکی ہیں
لیکن پھر بھی طاقتوروں کے پاس ایسے بہت سے حربے ہوتے ہیں جن سے وہ کیس کو دبا سکتے ہیں، گھما سکتے ہیں!
ختم کر سکتے ہیں
اور دوسری بات آپ مجھے یہ بتائیے، یہ سوال میں ان تجزیہ کاروں سے پوچھ رہا ہوں ،کیا اتنی خوبصورت ،دل کش، دل فریب لڑکیوں کو دیکھ کر آپ کے دل میں برے خیالات پیدا نہیں ہوں گے؟
یا آپ نہیں چاہیں گے کہ آپ انہیں حاصل کر کے اپنی جنسی لذت حاصل کریں۔
میں جانتا ہوں آپ مردوں کو،
آپ بہت ٹھرکی لوگ ہیں اور خاص طور پر پاکستانی مسلمان۔
آپ تجربہ کر کے دیکھ لیں! کسی روڈ کنارے ،کسی جنگل میں، ایک مجسمہ بٹھا دیں اور اس کو لڑکی کے کپڑے پہنا لیں پھر دیکھیں لوگ اس کی عزت لوٹنے کے لیے بھی نہیں چونکیں گے ۔
او بھائیو، یہ اسلامی ملک ہے یہاں کا مسلمان، غریب ،پانچ سال، سات سال یا چھ سال کی بچی کے ساتھ زیادتی کر کے اسے قتل کر دیتا ہے۔
ہماری مملکت خداداد پاکستان میں تو ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں کہ کسی عورت کی تازہ لاش کو قبر سے نکال کر اس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے
اور دوسری بات مجھے یہ بتاؤ کہ اس میں اسحاق ڈار کیا کیا قصور ہے؟
اگر میں کوئی جرم کرتا ہوں تو کیا میرا نانا اس کا ذمہ دار ہے؟
اگر میں کسی کی عزت لوٹتا ہوں تو کیا میرا نانا مجبور ہوگا استعفی دینے کو؟

ہم تو اپنی اولاد کے، اپنے بہن بھائیوں کے، کسی کے ذمہ دار نہیں ہیں۔
ہم نے صرف اپنا حساب دینا ہے قانون کے آگے بھی اور خدا کے آگے بھی۔
تم لوگوں کو جو تکلیف ہے اسحاق ڈار کی وہ میں سمجھتا ہوں کہ تمہارے پیٹ میں کیوں مروڑ اٹھ رہے ہیں۔
اور تیسری بات یہ ہے کہ وہ بچے ہیں بھائی،
معصوم ہیں،
نوجوان ہیں،
اگر بچے غلطیاں نہیں کریں گے تو کون کرے گا ؟
اور پھر اشرافیہ اور حکمرانوں کے بچے تو ویسے بھی بے سکون رہتے ہیں جب تک کہ وہ کوئی واردات نہ ڈالیں۔
تو جب وہ واردات ڈالیں گے ، کوئی کاروائی کریں گے ،
کوئی جرم اور گناہ کریں گے اور پھر وہ قانون سے بچ نکلیں گے تبھی تو وہ طاقتور کہلائیں گے۔
اور اس طاقت کا ایک اپنا ہی نشہ ہے میرے بھائیو اور بہنوں،
آپ غلط کام کریں اور قانون کی گرفت سے بچ جائیں تو جو نشہ اس وقت آپ کو آئے گا، وہ تمام نشوں سے بھاری ہوگا۔
مجھے ونز ویلا اور ہالینڈ کی لڑکیوں سے دلی ہمدردی ہے، وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھیں کہ ایک ملک کے نائب وزیراعظم کا مبینہ نواسہ ان کے ساتھ ایسی حرکت کرے گا کیونکہ ان کے ملک میں ایسا نہیں ہوتا۔
میں ان نوجوان لڑکیوں سے اپنی اور اپنی قوم کی طرف سے معافی کا طلبگار ہوں
لیکن میں ان سے یہی کہوں گا کہ جو میں نے ان کی تصویریں دیکھی ہیں۔
جو ویڈیوز دیکھی ہیں، اس بنا پر یہ بات تو طے ہے کہ یہ ملزمان ان کے دشمن نہیں
بلکہ ان کے جسم کے خد و خال، ان کے چہرے کے نقش و نگار، جیسے خالق نے بڑی دلچسپی سے بنائے ہوں،
ان کا حسن، ان کی خوبصورتی، ان کی سب سے بڑی دشمن ہے
تو پھر اس میں ان معصوم بچوں کا کیا قصور؟ انہیں تو شیطان نے بہکا دیا اور شیطان تو بہکایا ہی کرتے ہیں
اور اللہ غفور الرحیم ہے
وہ معاف کیا کرتا ہے

مزید خبریں