منگل,  28 اپریل 2026ء
دعاؤں کی حقیقت اور ماں کی محبت
دعاؤں کی حقیقت اور ماں کی محبت

تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

دعاؤں کی حقیقت اور ماں کی محبت

اس نے دونوں ہاتھ ماتھے پر رکھ کر مجھے دعائیں دینا شروع کیں۔
اللہ آپ کی مشکلیں آسان کرے،
اللہ آپ کو دنیا جہان میں سرخرو کرے!
اللہ آپ کی روزی کو کشادہ کرے، اور اس طرح کی بے شمار نہ ختم ہونے والی دعائیں۔
میں گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا اور وہ بھائی جس کی نہ کمر سیدھی تھی نہ ہی ہاتھ اور نہ پاؤں ۔
جیسے ہم کسی ردی کاغذ کو مٹھی میں بھینچ کر دیکھیں تو وہی حالت اس ادھیڑ عمر آدمی کی تھی لیکن وہ اپنے ٹیڑھے ہاتھوں کو ماتھے سے لگا کر اور مسکراتے ہوئے مجھے دعائیں دے رہا تھا۔
اب چونکہ میں ایک رقیق القلب انسان واقع ہوا ہوں اس لئےمیں نے ایک اور سو کا نوٹ نکالا ،اسے دے دیا۔ گاڑی سٹارٹ کی اور نکل گیا۔
اب میں یاد کرتا ہوں کہ میں اپنی زندگی میں لگ بھگ 50 سالوں سے ایسی دعائیں سمیٹ رہا ہوں۔

اللہ تمہیں بچوں کا سکھ دے۔
اللہ تبارک دنیا اور آخرت آسان کرے۔
تمہیں کسی مشکل میں نہ ڈالے۔
زندگی تمہارے لیے آسان ہو ۔
تمہیں بیوی بچوں کی طرف سے راحت اور مال و دولت کی طرف سے خوشحالی نصیب ہو۔
اتنی دعائیں لے چکا ہوں کہ میرے دامن میں مزید سمیٹنے کی اور کوئی گنجائش نہیں۔

میں ان لاچار، بے بس و مجبور و مظلوم لوگوں سے، جن سے کبھی پانچ روپے میں نیکی کمالیا کرتا تھا اور آج کم سے کم 100 روپیہ دینا پڑتا ہے ، اتنی دعائیں حاصل کر چکا ہوں کہ اگر ان کا میں ایک جگہ ڈھیر لگا دوں اور ایک کے اوپر ایک، ایک کے اوپر ایک نیکی رکھتا چلا جاؤں تو شاید ماؤنٹ ایورسٹ سے اونچی چوٹی بن جائے
لیکن جب ان دعاؤں کے نتائج دیکھتا ہوں تو صرف مایوسی اور نامرادیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ نیکیاں پہاڑ جتنی اور نتائج ایک پتھر کے برابر بھی نہیں جبکہ مالی اور معاشی حالات اسی طرح دگرگوں رہتے ہیں جس طرح پاکستان کے حالات ہیں۔
اگلے لمحے کا نہیں پتا کہ اس ملک میں کیا ہو جائے اور ہمیں اپنے کل کا نہیں معلوم کہ مالی نظم و ضبط کس طرح تباہ ہو جائے گا۔
اب ایسا بھی نہیں ہے کہ ہم کماتے نہیں ہیں، خوب کماتے ہیں لیکن پس انداز نہیں کرپاتے ۔
سب بجلی، پانی گیس، سکول کی نظر ہو جاتا ہے ۔
آپ سب شادی شدہ لوگ ہیں۔
آپ نے بھی ایسی ڈھیروں نیکیاں حاصل کی ہوں گی ،دعائیں لی ہوں گی فقراء میں خیرات تقسیم کر کے اور پھر بدلے میں
تمہارے بچے جئیں،
اتنی اچھی بیوی ملے،
تمہارا روزگار بڑھے،
یہ دعائیں لے کر لوٹے ہوں گے۔
آپ کا دعاؤں کے حوالے سے یقین اپنی جگہ ، میں اسے چیلنج نہیں کرتا لیکن میرا تجربہ اور مشاہدہ یکسر مختلف ہے لہذا مجھے اپنی رائے کا اظہار کرنے کی اجازت دیجئے۔
آپ اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے بتائیے جب سے آپ کی شادی ہوئی ہے چاہے اس کو پانچ سال گزر چکے ہوں یا 22 سال یا 31 سال پانچ ماہ، کیا آپ کی اپنی زوجہ محترمہ سے ریلیشن شپ پہلے سے بہتر ہو رہی ہے یا ہر روز بدتر ہوتی جا رہی ہے ؟ تو پھر جو آپ برسہا برس سے دعائیں اکٹھی کر رہے ہیں ان کا کیا حاصل ہے؟
اور دعائیں دینے والی ایک قسم اسکے علاوہ بھی ہے جیسا کہ کئی لوگوں کے ساتھ اگر آپ نیکی نہ بھی کریں، انہیں صدقہ خیرات نہ بھی دیں، تب بھی وہ عادتا
اپ کو دعائیں دیتے رہنے سے نہیں چوکتے۔
آپ کو صبح میسج بھیج دیں گے۔
آپ واٹس ایپ کا میسج کھولو گے تو دنیا جہاں کی نعمتیں آپ کی منتظر نظر آئیں گی،
دنیا اور آخرت میں خود کو سرخرو ہوتے ہوئے پاو گے،
ہر طرح کی دنیاوی اور جنت کی نعمتیں آپ کو میسر ہوں گی لیکن صرف پیغامات کی حد تک۔
اب آپ یہ مت سوچیے کہ جو ہر صبح آپ کو خوشحالی و ذہنی سکون کے پیغامات بھیجتے ہیں وہ بے لوث ہیں اور آپ سے محبت کرتے ہیں اور یہ کہ وہ بھی ان نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جن کی وہ آپ کے لیے خواہش رکھتے ہیں۔
نہیں، ہرگز نہیں ،
کوئی نیکی بے لوث نہیں ہوتی،
ہم نیکی بھی اس لالچ میں کرتے ہیں کہ اس کے بدلے میں ہمیں جنت ملے گی،
اگر 100 روپیہ دیں گے تو 700 روپے واپس آئیں گے،
یہ انسان بہت لالچی ہے بھائی،
یہ تو نماز اور روزہ بھی اس نیت سے ادا کرتا ہے کہ روز محشر اس سے جنت میں اعلی مقام مرتبہ حاصل ہو اور حوریں اس کے بدن کی مالش کر رہی ہوں۔
یہ دنیا کل یگ ہے دوستو، جہاں کوئی بے لوث اور خلوص بھرا رشتہ نہیں ہے۔

اللہ بھی آپ کے ساتھ یکطرفہ محبت نہیں کرتا، وہ بھی آپ کو احکامات دیتا ہے اور ساتھ ان کی بجاآوری کا حکم بھی دیتا ہے۔
اگر آپ اس کے احکامات مانیں گے تب آپ کے لیے انعام و اکرام کے وعدے کرتا ہے۔
خدا ہم سے سوداگری کر رہا ہے، لین دین کا معاملہ کر رہا ہے۔

ہاں صرف ایک رشتہ ایسا ہے
جس کو آپ کی
حیثیت، آپ کے مقام۔ آپ کی دولت، آپ کی شکل و صورت، آپ کی عزت و احترام سے کوئی فرق نہیں پڑتا
اور وہی ایک ہستی آپ سے بے لوث اور دیوانہ وار محبت کرتی ہے
اور
وہ ہے ماں ،
جی ہاں وہ ماں ہے ،
میری ماں،
آپ کی ماں،
اور ہم سب کی ماں،
تو اے ماؤں
آج کا آرٹیکل آپ کے نام

مزید خبریں