پیر,  31  اگست 2026ء
جبری گمشدگیوں کے عالمی دن پر ڈی ایچ آر کا ریاست سے فوری اقدامات کا مطالبہ

اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) ڈیفنس آف ہیومن رائٹس (ڈی ایچ آر) نے جبری گمشدگیوں کے عالمی دن کے موقع پر حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ جبری گمشدگیوں کے خاتمے، متاثرین کو انصاف اور خاندانوں کو سچائی و تلافی کی فراہمی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ڈی ایچ آر نے کہا کہ 2026 میں جبری گمشدگی سے تحفظ کے عالمی کنونشن ( آئی سی پی پی ای ڈی) کی منظوری کو 20 سال مکمل ہو رہے ہیں، جبکہ پاکستان میں متاثرہ خاندان دو دہائیوں سے اپنے پیاروں کی بازیابی اور انصاف کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

تنظیم نے مطالبہ کیا کہ پاکستان فوری طور پر آئی سی پی پی ای ڈی کی توثیق کرے، جبری گمشدگی کو علیحدہ جرم قرار دے، موجودہ لاپتہ افراد کمیشن کی جگہ ایک آزاد، خودمختار اور بااختیار سچائی و مفاہمت کمیشن قائم کیا جائے اور تمام خفیہ یا غیر قانونی حراست میں رکھے گئے افراد کو عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے۔ ڈی ایچ آر نے جبری گمشدگیوں کی آزادانہ تحقیقات، متاثرین و گواہوں کا تحفظ، مکمل تلافی اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے انسانی حقوق کے محافظوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ ختم کرنے پر بھی زور دیا۔ تنظیم نے ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کے مقدمات فوری بحال کرنے اور ملکی قوانین کو بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں سے ہم آہنگ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگی ایک فرد نہیں بلکہ پورے خاندان، معاشرے اور قانون کی حکمرانی پر حملہ ہے، جس کے خاتمے کے لیے ریاستی اقدام ناگزیر ہے۔

مزید خبریں