اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)پاکستان کے مختلف شہروں میں عورت مارچ کے دوران ناچ گانے،بینرزکیخلاف سوشل میڈیا صارفین پھٹ پڑےاور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے مارچ کے انعقاد کیلئے این او سی جاری کرنے سے گریز کرے تو یہی ملک وقوم کیلئے بہتر ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان میں ایک طرف ایسا طبقہ موجود ہے جو عورت مارچ کا حامی ہے تو دوسری طرف ایسے افرادبھی موجود ہیں جو اس مارچ اور اس میں ہونے والے ناچ گانوں یا نازیبا قسم کے بینرزکے خلاف اپنے غم وغصے کا بھرپور اظہار کر رہے ہیں۔
ملک کے مختلف شہروں میں عورت مارچ کے خلاف مذہبی تنظیموں اور دیگر گروپوں کی جانب سے ریلیاں بھی نکالی جاتی ہیں۔
پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے ہر سال منعقد ہونے والے عورت مارچ پر کچھ طبقوں کی طرف سے تنقید کی جاتی ہے وہیں سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعدادبھی برہم دکھائی دیتی ہے ۔
کوئی کہتا ہے کہ عورت مارچ ہونا ہی نہیں چاہیے تو کسی کو اس مارچ میں احتجاج کے طریقہ کار پر اعتراض ہے۔
کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں اس مارچ کے کچھ نعرے پسند نہیں آتے۔
عورت مارچ میں بلند ہونے والے اس نعرے پر اب سب سے زیادہ تنقید ہورہی ہے ’’میرا جسم میری مرضی‘‘۔

ناقدین اس نعرے کو معاشرے کی مذہبی اور خاندانی اقدار کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین کہتے ہیں کہ اللہ نے ہر مرد اور عورت کو آزاد پیدا کیا ہے۔ اس پر ان کی مرضی ہونی چاہیے۔ ان کے بقول عورت کو اپنے پہننے اوڑھنے، رائے کے اظہار، پسند و ناپسند کا حق حاصل ہے۔ لیکن اس مرضی کی کچھ حدود بھی ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین اور مذہبی جماعتوں کے مطابق عورت مارچ سے حکومتی سرپرستی میں فحاشی و عریانی کو فروغ دیا جارہا ہے، حکومت کے آزاد رویوں سے این جی اوز کو عورت مارچ سے تہذیبی اقدار پر حملہ کرنے کا موقع مل رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:نیشنل پریس کلب کے انتخابات،جرنلسٹ پینل کا کلین سویپ
سوشل میڈیا صارفین کے مطاق مارچ کے بینرزبھی اشتعال انگیز ہوتے ہیںجس کے ذریعے معاشرے میں حیوانیت کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔
کچھ سوشل میڈیا صارفین نے کہاکہ وہ عورت مارچ کی مخالف نہیں ہیں لیکن چیزوں کو متنازعہ بنا کر مشہور کرنا درست عمل نہیں ہے۔
دوسری طرف خواتین کا کہنا ہے کہ لوگ ’’میرا جسم، میری مرضی‘‘ کے نعرے کی تشریح ہی غلط کرتے ہیں۔
یہ نعرہ امریکہ میں انیسویں صدی میں تولیدی حقوق کی تحریک میں ابھرا تھا، جس کا اصل مطلب یہ ہے کہ اگر میرا جسم ہے تو اس پر مرضی بھی میری ہونی چاہیے۔ کوئی اسے میری مرضی کے بغیر ہاتھ نہ لگائے، کوئی ہمارا ریپ نہ کرے، کوئی ہمیں ہر سال ہماری مرضی کے بغیر بچے پیدا کرنے کو نہ کہے، شریک حیات کے ساتھ ازدواجی تعلق کے لیے بھی معیار رضامندی ہو نہ کہ زبردستی اور مجبوری۔
خواتین کا کہنا ہے اگر وہ تشدد کے خلاف بات کریں، یا ازدواجی معاملات میں عورت کی رضامندی کی بات کریں یا اگر وہ یہ بات کریں کہ عورت کی مرضی ہو کہ بچہ کب پیدا کرنا ہے؟ یا جنسی ہراسانی کی بات کریں، تو ان میں سے کون سی بات مذہب کے خلاف ہے؟
مزیدپڑھیں:نیئر بخاری کا خواتین کے عالمی دن پر بے نظیر بھٹو کی عظمت کو سلام پیش
خواتین کا کہنا ہے کہ میرے جسم پر میری مرضی نہیں ہو گی تو کیا میرا جسم ہو گا اور آپ کی مرضی ہو گی؟
یادرہے کہ پاکستان میں آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر کئی چھوٹے بڑے شہروں میں عورت آزادی مارچ منعقد کئے جاتےہیں۔

اسلام آباد، لاہور، کراچی، کوئٹہ، سکھر اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں یہ مارچ منعقد ہوتے ہیں ۔
مارچ کے شرکا میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کے علاوہ بڑی عمر کے افراد، خواجہ سرا اور دیگر گروہوں کے نمائندے بھی شمولیت اختیار کرتے ہیں۔











