کراچی(روشن پاکستان نیوز)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پاکستان) نے اپنی رابطہ کمیٹی تحلیل کرکے اس کی تنظیم نو کے لیے ایڈہاک کمیٹی تشکیل دے دی۔
ترجمان ایم کیوایم پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پارٹی سربراہ ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی کی زیرصدارت ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس کے دوران رابطہ کمیٹی کوتحلیل کر کے تنظیم نوکرنےکی تجویز دی گئی۔
ترجمان ایم کیوایم پاکستان نے کہا کہ رابطہ کمیٹی کی تنظیم نو کے لیے ایڈہاک کمیٹی بنادی گئی ہے جس میں خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار شامل ہیں۔
ایم کیوایم پاکستان نے کہا کہ انیس قائم خانی اور نسرین جلیل بھی ایڈہاک کمیٹی میں شامل ہیں۔
مزیدپڑھیں:فارم 45 اور47 اپلوڈ نہ کرنے کیخلاف درخواست پر الیکشن کمیشن کو نوٹسسز جاری
واضح رہے کہ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کی تنظیم نو کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ گزشتہ کے آواخر میں اس کے ڈپٹی کنوینر مصطفیٰ کمال اور گورنر سندھ کی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک منظر عام پر آگئی تھیں۔
بعد ازاں مصطفیٰ کمال نے اپنی لیک آڈیو کو درست قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ میری ہی آواز ہے، میں الیکشن کے بعد ایم کیو ایم کی مذاکراتی کمیٹی کا حصہ ہوں تو ہماری مسلم لیگ(ن) سے پے درپے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان ملاقاتوں کے بعد میں اتوار کو اپنی رابطہ کمیٹی کے دفتر میں بیٹھ کر بریفنگ دے رہا ہوں کہ اس میٹنگ میں کیا کچھ ہوا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا تھا کہ اہم بات یہ ہے کہ یہ میٹنگ رابطہ کمیٹی کے کمرے میں ہو رہی ہے، اس رابطہ کمیٹی کے کمرے میں کوئی میری وائس ریکارڈنگ کررہا ہے، بہت دنوں سے ہمیں یہ اطلاع تھی کہ ہمارے ہاں ایم کیو ایم لندن کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ ان کے لیے کام کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں کچھ لوگوں پر شک تھا لیکن پتا نہیں چل پا رہا تھا، جب ہم نے اس آڈیو کا فارنزک کرایا تو ہمیں پتا چل گیا کہ کون ہے جو رابطہ کمیٹی میں بیٹھ کر ایم کیو ایم لندن کے لیے کام کررہا ہے کیونکہ یہ آڈیو لندن نے ریلیز کی ہے اور انہیں لگ رہا ہے کہ ان کے ہاتھ کوئی بہت بڑی چیز لگ گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم لندن کو اندازہ نہیں ہے کہ ان کا جو ایجنٹ ہمارے درمیان بیٹھا ہوا ہے اس آڈیو نے اس کو پکڑوا دیا ہے اور ہمیں پتا چل گیا ہے کہ اس پارٹی، اس قوم کے خلاف کون ہے، اس پارٹی کے خلاف کون کام کررہا ہے اور ہمیں اس شخصیت کا پتا چل گیا جو ہمارے خلاف کام کررہی تھی۔











