اتوار,  27  ستمبر 2026ء
26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد عدالتی تقرریوں میں ن لیگ نظر انداز؟ لیگی وکیل خالد تاج کا بڑا دعویٰ

اسلام آباد(محب) مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے نام پیغام میں ن لیگی وکیل ایڈووکیٹ خالد تاج نے عدالتی تقرریوں کے حوالے سے اہم دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد تعینات ہونے والے ججز میں مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والا ایک بھی وکیل شامل نہیں۔

خالد تاج کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران مختلف ہائی کورٹس میں تقریباً 60 نئے ججز تعینات کیے گئے، جن میں ان کے دعوے کے مطابق 13 کا تعلق پیپلز پارٹی کے قریبی وکلا جبکہ 15 کا تعلق انڈیپنڈنٹ گروپ سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ن لیگ سے وابستہ ایک بھی وکیل جج نہیں بن سکا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ لاہور ہائی کورٹ کے ججز کے لیے مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے دو وکلا کے نام بھی بھیجے گئے تھے، تاہم دونوں میں سے کوئی بھی جج تعینات نہ ہو سکا۔

خالد تاج نے لا آفیسرز کی تقرریوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ تقریباً 30 فیصد کا تعلق پیپلز پارٹی جبکہ 30 فیصد کا انڈیپنڈنٹ گروپ سے ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے لا آفیسرز کی تعداد مبینہ طور پر صرف 10 فیصد کے قریب ہے۔

ن لیگی وکیل نے مختلف ٹریبونلز میں چیئرمینز اور ممبران کی تقرریوں پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان میں بھی مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص نظر نہیں آتا، جبکہ ان کے مطابق زیادہ تر تقرریاں انڈیپنڈنٹ گروپ اور باقی پیپلز پارٹی سے وابستہ افراد کی ہوئی ہیں۔

خالد تاج نے نواز شریف اور مریم نواز سے مطالبہ کیا کہ وہ ان اعداد و شمار اور تقرریوں کے ریکارڈ کو نوٹ کریں۔

مزید خبریں