اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں، لطاسب ستی، اخلاق ستی اور متعدد ساتھیوں کو چار گھنٹے تک حبسِ بے جا میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔
سلمان اکرم راجہ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو صرف اس مقصد کے لیے روکا گیا کہ وہ پی ٹی آئی رہنما اعجاز ستی مرحوم کے جنازے میں شرکت نہ کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ چار گھنٹے حبسِ بے جا میں رکھنے کے بعد انہیں رہا کیا گیا، جبکہ اس کارروائی کا مقصد اعجاز ستی کے جنازے میں شرکت سے روکنا تھا۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ عوام کے خوف نے فیصلہ سازوں سے عقل و فہم چھین لیا ہے اور انسانی حقوق بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں۔
وزیرآباد میں حملے کیلئے بھیجے گئے کرائے کے قاتل کو میری سکیورٹی ٹیم نے پکڑا: سہیل آفریدی
انہوں نے اپنے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرنے والے دوستوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔
دوسری جانب اعجاز ستی کی پولیس حراست میں موت کے معاملے پر پی ٹی آئی پہلے ہی شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کا مطالبہ کر چکی ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق اعجاز ستی کو پولیس نے حراست میں لیا تھا اور بعد ازاں ان کی موت واقع ہوئی، تاہم واقعے کی حتمی وجوہات سے متعلق سرکاری تصدیق سامنے آنا باقی ہے۔











