واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز) امریکی ایوانِ نمائندگان نے روس اور ایران کے خلاف نئی پابندیوں کے بل کی منظوری دے دی، یہ بل 159 کے مقابلے میں 262 ووٹوں سے منظور کیا گیا۔
سینیٹ پہلے ہی یہ بل منظور کر چکی ہے، اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے لیے بھیجا جائے گا، اس بل کا مقصد روس پر معاشی دباؤ بڑھانا اور ایرانی اداروں پر پابندیاں عائد کرنا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایوانِ نمائندگان نے روس پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا بل منظور کر لیا، بل کے حق میں 262 ووٹ آئے، جب کہ 159 ارکان نے مخالفت کی، زیادہ تر ڈیموکریٹس نے بل کی مخالفت کی۔ ان کا خدشہ تھا کہ اس قانون سے صدر ٹرمپ کو دوسرے ممالک پر بھاری درآمدی ٹیکس (ٹیرف) لگانے کے اضافی اختیارات مل جائیں گے۔
اس کے باوجود 58 ڈیموکریٹس نے بل کے حق میں ووٹ دیا، جب کہ 7 ریپبلکن ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ ایوانِ نمائندگان کا بدھ کا اجلاس اس قانون سازی کے حوالے سے آخری اجلاس تھا۔ اس کے بعد ارکان الیکشن ڈے کے بعد تک واشنگٹن سے باہر رہیں گے۔
اس بل کے تحت صدر کو روسی تیل یا قدرتی گیس کے 5 بڑے خریداروں پر 100 فی صد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ ان ممالک کے لیے استثنیٰ موجود ہے جو اپنی قدرتی گیس کی 15 فی صد سے کم ضروریات روس سے پوری کرتے ہیں اور درآمدات کم کرنے کے لیے ’’اہم‘‘ اقدامات کر رہے ہیں۔
نیٹو روس کے ساتھ طویل جنگی محاذ آرائی کی تیاری کر رہا ہے، روسی وزارت خارجہ
بل میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، ان کی حکومت کے عہدیداروں، روسی ارب پتی کاروباری شخصیات اور روسی بینکوں و مالیاتی اداروں پر بھی پابندیاں شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ کی درخواست پر اس بل میں ایران کے توانائی اور ہتھیاروں کے شعبوں پر عائد پابندیوں میں بھی توسیع کی گئی ہے۔ بل صدر کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ اگر وہ کانگریس کو تصدیق کر دیں کہ پابندیوں سے استثنیٰ دینا امریکا کے قومی مفاد میں ہے تو وہ ان پابندیوں کو ختم یا معطل کر سکتے ہیں۔
سینیٹ نے ایک سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد اگست میں بھاری دو جماعتی حمایت کے ساتھ اس قانون سازی کی منظوری دی تھی۔ ان مذاکرات کی قیادت جنوبی کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے مرحوم سینیٹر لنڈسی گراہم نے کی تھی۔ اب یہ بل صدر ٹرمپ کے دستخط کے لیے ان کی میز پر جائے گا۔











