اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) ممبر قومی اسمبلی سحر کامران نے پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
سحر کامران نے کہا کہ پمز ہسپتال کی نرسری میں معصوم نومولود بچوں کا آتشزدگی کے نتیجے میں جاں بحق ہونا دل دہلا دینے والا سانحہ ہے۔ اس المناک واقعے میں متاثرہ خاندانوں کے غم اور دکھ میں برابر کی شریک ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اپنے لختِ جگر کو کھونے والے والدین کے لیے یہ ناقابلِ تلافی نقصان ہے، جبکہ معصوم بچوں کے والدین اور لواحقین کے دکھ اور کرب کا تصور بھی انتہائی تکلیف دہ ہے۔ میری تمام تر ہمدردیاں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔
ممبر قومی اسمبلی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ غمزدہ والدین اور لواحقین کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل عطا فرمائے اور جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کو اپنی رحمت میں جگہ دے۔
رکن قومی اسمبلی سحر کامران کی قوم کو عید میلاد النبی ﷺ کی مبارکباد
سحر کامران نے کہا کہ ای ڈی پمز کا یہ بیان کہ فائر سسٹم ’’تسلی بخش‘‘ تھا، خود ایک بڑا سوال اور الزام ہے۔ 14 معصوم بچے زندہ جل کر جان کی بازی ہار گئے اور اس کے باوجود فائر سیفٹی سسٹم کو تسلی بخش قرار دیا جا رہا ہے، یہ صورتحال ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم ذمہ داری کا واضح تعین کریں اور واقعے کی مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ وفاقی وزیر صحت اور ای ڈی پمز کو بھی اس سانحے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دینا چاہیے۔
سحر کامران نے کہا کہ ڈیوٹی پر موجود عملے، فائر سیفٹی سسٹم اور آتشزدگی سے متعلق تمام پہلوؤں کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے۔ ایک فعال اور بااختیار انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ غفلت یا کوتاہی کے ذمہ داران کا تعین ہوسکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غفلت کی سزا صرف وضاحتیں نہیں بلکہ استعفیٰ اور سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے ہسپتالوں، بالخصوص نرسریوں اور حساس شعبوں میں مؤثر حفاظتی انتظامات یقینی بنانا ریاست اور متعلقہ حکام کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
سحر کامران نے کہا کہ معصوم بچوں کی جانوں کے ضیاع کا معاملہ محض ایک انتظامی واقعہ نہیں، بلکہ یہ ایک سنگین انسانی سانحہ ہے، جس پر ذمہ داروں کا تعین اور قانون کے مطابق کارروائی ہر صورت ہونی چاہیے۔











