اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا ہے کہ 14 اگست کو پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر ملک مسلم دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات اور دفاعی تعاون کے حوالے سے ایک نئے باب میں داخل ہو رہا ہے۔
اپنے مضمون میں سحر کامران نے کہا کہ مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اعتماد کا آغاز نہیں بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں میں قائم ہونے والے باہمی اعتماد کو ایک ادارہ جاتی شکل دینے کی کوشش ہے۔
اسلام آباد: آبنائے ہرمز کشیدگی، پاکستان کی ثالثی امن کی نئی امید قرار: سحرکامران
انہوں نے کہا کہ دفاعی باز deterrence کا مقصد جنگ کی تیاری نہیں بلکہ جنگ کے امکانات کو کم سے کم کرنا ہے۔ پاکستان کی موجودہ طاقت صرف اس کی عسکری صلاحیتوں سے ظاہر نہیں ہوتی بلکہ اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے شراکت دار ممالک کے ساتھ اعتماد اور باہمی یقین پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سحر کامران نے اپنے مؤقف کو “اعتماد سے حکمتِ عملی تک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو مزید منظم اور مؤثر دفاعی شراکت داری میں تبدیل کر رہا ہے۔
انہوں نے یہ خیالات روزنامہ دی نیشن میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں بیان کیے۔











