لاہور (روشن پاکستان نیوز): لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور جنسی تشدد کے کیس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے مبینہ رشتہ رکھنے والے ملزم کی گرفتاری کے معاملے پر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کو صحافیوں کے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد وہ پریس کانفرنس ادھوری چھوڑ کر روانہ ہو گئے۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ کیس میں گرفتار ملزم محمد رضا ڈار کے بارے میں چھاپے کے دوران معلومات سامنے آئیں کہ اس کے خاندان کا تعلق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے بتایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معلومات کی تصدیق کے بعد ملزم کا نمبر حاصل کیا گیا اور اسے تلاش کرنے کے لیے کارروائی شروع کی گئی۔ �
Dawn +1
فیصل کامران کے مطابق پنجاب حکومت کی ہدایت ہے کہ بااثر شخصیت سے مبینہ تعلق رکھنے والے ملزم سمیت تمام ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق اور میرٹ پر کارروائی کی جائے، کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔
بریفنگ کے بعد صحافیوں نے ڈی آئی جی آپریشنز سے سوال کیا کہ ملزم کے مبینہ سیاسی و خاندانی تعلق کے باوجود تفتیش کی شفافیت کیسے یقینی بنائی جائے گی۔ اس پر فیصل کامران نے کہا کہ وہ صحافیوں کے سوالات اور ان کے پس منظر کو سمجھ رہے ہیں، تاہم مزید سوالات کے دوران وہ پریس کانفرنس ختم کر کے چلے گئے۔
ڈی آئی جی آپریشنز کے جانے پر بعض صحافیوں نے احتجاجاً نعرے لگائے اور کہا کہ لاہور پولیس صرف افسران کی نہیں بلکہ عوام اور میڈیا کی بھی ہے، اس لیے سنگین نوعیت کے کیس میں اٹھائے گئے سوالات کے واضح جوابات دیے جانے چاہییں۔
پولیس کے مطابق دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور جنسی تشدد کے مقدمے میں ابتدائی طور پر چار ملزمان گرفتار کیے گئے تھے، جبکہ تحقیقات کے دوران مزید گرفتاریاں بھی کی گئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خواتین کو بیرون ملک سے موصول ہونے والی اطلاع کے بعد بازیاب کرایا گیا اور مقدمے کی تفتیش جاری ہے۔











