بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک ایسا سسٹم ہے جس کے تحت مستحق خواتین کو ہر تین یا چار ماہ بعد باقاعدگی سے مالی امداد اور بچوں کا وظیفہ دیا جاتا ہے لیکن اس سسٹم میں استعمال ہونے والی ڈیوائسز کے ٹھیکے مختلف کمپنیوں کے پاس ہوتے ہیں اگر آپ کسی مخصوص کمپنی کی ڈیوائس لینا چاہتے ہیں تو اس کے لیے کم از کم دو سے ڈھائی لاکھ روپے بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ انویسٹمنٹ کرنی پڑتی ہے اس کے ساتھ مختلف ٹارگٹس جیسے سم ایکٹیو وغیرہ بھی پورے کرنے ہوتے ہیں بعض دیگر کمپنیوں کی ڈیوائس حاصل کرنے کے لیے کئی افراد مل کر لاکھوں روپے کی انویسٹمنٹ کرتے ہیں تب جا کر یہ سسٹم چلایا جاتا ہے جب ادائیگیوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو مستحق خواتین کے کارڈ سے فی ٹرانزیکشن ایک ہزار ڈیڑھ ہزار یا دو ہزار روپے تک وصول کیے جاتے ہیں اگر روزانہ 100 کارڈ نکالے ہوں تو یہ رقم لاکھوں میں پہنچ جاتی ہے اور اگر 500 کارڈ ہوں تو روزانہ کی آمدن کئی لاکھ روپے بن جاتی ہے ادائیگیوں کا یہ سلسلہ تقریباً 15 سے 20 تک جاری رہتا ہے جس کے دوران ہزاروں کارڈز کے ذریعے کروڑوں روپے کا لین دین ہوتا ہے اس رقم کا ایک حصہ مختلف بااثر افراد یا متعلقہ تھانہ میڈیا وغیرہ میں یا اثر و رسوخ رکھنے والوں تک پہنچایا جاتا ہے جبکہ باقی رقم ڈیوائس آپریٹرز کے پاس بچ جاتی ہے اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ اس سسٹم کے ذریعے بعض لوگ مبینہ طور پر کروڑوں روپے کرپشن کر کے کماتے ہیں مگر ان سے کوئی احتساب نہیں کیا جاتا اور جب بچوں کا وظیفہ جاری ہوتا ہے تو اکثر خواتین کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ ان کے بچوں کے نام پر کتنی رقم آئی ہے صرف فنگر پرنٹ لے کر ادائیگی کر دی جاتی ہے لیکن انہیں مکمل تفصیلات نہیں دکھائی جاتیں کہ ان کے اکاؤنٹ میں کتنی رقم کس مد میں آئی ہے بعض افراد سود پر رقم لے کر یا ادھار رقم کا انتظام کرکے اس کاروبار میں داخل ہوتے ہیں سورس کے مطابق ڈیوائس سسٹم میں بہت بڑے پیمانے پر بدعنوانی موجود ہے جو عام لوگوں کے تصور سوچ سے بھی کہیں زیادہ سنگین بتائی جاتی ہے











