لاہور(روشن پاکستان نیوز) پنجاب بھر میں موسمِ گرما کی تعطیلات سے قبل نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے والدین سے تین ماہ کی ایڈوانس فیس وصول کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس پر والدین اور اساتذہ نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق متعدد پرائیویٹ اسکولز نے مئی اور جون میں ہی جولائی، اگست اور ستمبر کی فیسیں پیشگی وصول کر لی ہیں، جبکہ دوسری جانب اساتذہ کو تعطیلات کے دوران مکمل تنخواہیں ادا نہیں کی جا رہیں۔ بعض تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو نوکریوں سے فارغ کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
والدین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں ایک ساتھ تین ماہ کی فیس ادا کرنا متوسط طبقے کیلئے انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ کئی والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت نجی تعلیمی اداروں کی فیس پالیسی کا نوٹس لے اور ایڈوانس فیس وصولی کے عمل کو محدود کرے۔
وفاقی تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی دور کرنے کے لیے 600 سے زائد نئی آسامیوں کی منصفانہ تقسیم مکمل
اساتذہ تنظیموں نے بھی شکایت کی ہے کہ اسکول انتظامیہ والدین سے مکمل فیس وصول کرنے کے باوجود اساتذہ کو بروقت تنخواہیں ادا نہیں کر رہی۔ بعض اساتذہ کے مطابق تعطیلات کے آغاز سے قبل ہی انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا تاکہ اداروں پر مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کیلئے واضح پالیسی اور نگرانی کا مؤثر نظام نہ ہونے کے باعث والدین اور اساتذہ دونوں مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نجی اسکولوں کی فیسوں، اساتذہ کے حقوق اور ملازمت کے تحفظ کیلئے سخت قوانین نافذ کیے جائیں۔











