هفته,  25 اپریل 2026ء
امریکا اور ایران میں مذاکرات کی خواہش مگر اعتماد کا فقدان بڑی رکاوٹ ہے: سحر کامران

اسلام آباد(روبینہ مظہر)رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران دونوں جنگ کے بجائے مذاکرات کے خواہاں ہیں، تاہم باہمی اعتماد کا فقدان اور سخت شرائط اس عمل میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں سحر کامران نے بتایا کہ انہوں نے الجزیرہ قاہرہ نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ جنگ کے اخراجات سب کے لیے بہت زیادہ ہیں، اس لیے فریقین بات چیت کی طرف آنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران دباؤ میں آ کر کسی بھی معاہدے کو قبول نہیں کرے گا، جبکہ اعتماد سازی کے اقدامات (Confidence-Building Measures) ہی مذاکرات کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

سحر کامران نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

اسلام آباد: آبنائے ہرمز کشیدگی، پاکستان کی ثالثی امن کی نئی امید قرار: سحرکامران

تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے باعث امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اعتماد سازی کے اقدامات نہ کیے گئے تو خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان ماضی میں بھی مختلف علاقائی تنازعات میں مصالحتی کردار ادا کرتا رہا ہے اور حالیہ صورتحال میں بھی سفارتی سطح پر سرگرم دکھائی دے رہا ہے۔

مزید خبریں