لاہور (روشن پاکستان نیوز) گزشتہ روز لاہور کی مقامی مارکیٹ میں خاتون پر توہین مذہب کا الزام عائد کیا گیا تھا، جہاں ایک خاتون نے کُرتا پہنا تھا، جس پر عربی الفاظ درج تھے، جس پر مشتعل افراد کی جانب سے توہین مذہب کا الزام عائد کر دیا گیا تھا۔
گزشتہ روز لاہور کی مقامی مارکیٹ میں مشتعل ہجوم کی جانب سے خاتون پر توہین مذہب کا الزام عائد کیا گیا تھا، جس کے بعد اے ایس اپی گلبرگ شہر بانو نقوی نے خاتون کو بحفاظت ہجوم سے بچایا تھا۔خاتون پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ہمیں دوپہر 1 سے ڈیڑھ بجے کے درمیان ایک کال موصول ہوئی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ لاہور کے علاقے میں ایک خاتون نے توہین مذہب کی ہے، اور خاتون نے کُرتا پہنا ہے، جس پر قرآنی آیات درج ہیں۔
تاہم اے ایس پی گلبرگ شہربانو نقوی نے 200 سے 300 افراد کے مجمع سے بحفاظت خاتون کونکال کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔دوسری جانب خاتون نے جو کُرتا زیب تن کیا ہوا ہے، وہ ایک سعودی برانڈ ہے، جو کہ عربی الفاظ والے کُرتے فروخت کرتا ہے۔یہ سعودی عرب کے مقبول برانڈ شالک ریاض ہے کہ خواتین کے کپڑوں کے حوالے سے مقبول ہے۔
مزید پڑھیں: محسن نقوی کاکمشنرلاہورکیلئے لینڈکروزرکاتحفہ،مہنگائی،بجلی بلوں کے ستائے شہری پھٹ پڑے
واضح رہے توہین مذہب کا الزام لگا گیا تھا کہ اس پر قرآنی آیات لکھی ہیں، وہ دراصل عربی لفظ حلوہ تھا، جو کہ کُرتے پر درج تھا۔عربی زبان میں حلوہ کے معنی حسین، خوبصورت اور میٹھے کے ہیں۔











