ایف پی سی سی آئی وفد کی وزیر خزانہ سے ملاقات، بجٹ تجاویز اور کاروباری مسائل پر تفصیلی گفتگو

اسلام آباد(عرفان حیدر) عاطف اکرام شیخ صدر ایف پی سی سی آئی، ای سی او سی سی آئی ، سینئر نائب صدر سارک چیمبر، نائب صدر کاسی کی قیادت میںایف پی سی سی آئی کے اعلی سطح کے وفد نے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے ملاقات کی۔ وفد میں ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں، نائب صدور طارق جدون، آصف سخی اور امان پراچہ ،ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین میاں زاہد حسین، پی وی ایم اے کے چیئرمین عمر ریحان شیخ، ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر غضنفر بلور، انچارج ایف پی سی سی آئی کیپٹل آفس کریم عزیز ملک، چیئرمین کوآرڈینیشن کیپٹل آفس ملک سہیل حسین اور پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شام لال منگلانی سمیت دیگر اہم کاروباری شخصیات بھی شامل تھیں۔ ملاقات کے دوران وفد نے فائنل ٹیکس رجیم، سپر ٹیکس، انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ریفنڈز، فردر ٹیکس، پی او ایس (POS) نظام اور فیلڈ فارمیشنز کے اختیارات سے جڑے خدشات ،کاروباری برادری کو درپیش انتہائی سنگین مسائل پر بات چیت کی۔ اس کے ساتھ ساتھ وفد نے وزیر خزانہ کو کپاس اور خوردنی تیل کے شعبوں کو درپیش مخصوص چیلنجز سے بھی تفصیل سے آگاہ کیا۔اس موقع پر صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے فیڈریشن کی جانب سے تیار کردہ وفاقی بجٹ تجاویز کا مسودہ وفاقی وزیر خزانہ کو پیش کیااور دستاویز میں شامل مخصوص تجاویز پر تفصیلی بریفنگ بھی دی۔ انہوں نے ان تجاویز کو پاکستان کے موجودہ معاشی مسائل کے حل کے لیے ایک جامع اور قابل عمل روڈ میپ قرار دیا۔ عاطف اکرام شیخ نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فیڈریشن کی سفارشات کو سنجیدگی سے لے اور انہیں آنے والے بجٹ کی منصوبہ بندی کا حصہ بنائے۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ان تجاویز کی تیاری پر صدر فیڈریشن اور ان کی پوری ٹیم کی کوششوں کو سراہا اور کاروباری برادری کے اس رسپانس کو انتہائی مثبت قرار دیا۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ حکومت بامعنی مشاورت پر پختہ یقین رکھتی ہے اور انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ فیڈریشن کی یہ سفارشات وفاقی بجٹ کی تیاری میں ایک بہترین رہنما کا کردار ادا کریں گی۔

مزید خبریں