لاہور(روشن پاکستان نیوز)جاتے جاتے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے کمشنرلاہور کو نواز دیا،محمد علی رندھاوا کو لینڈ کروزرمل گئی جبکہ دوسری جانب مہنگائی اور بجلی بلوں سے ستائے شہری پھٹ پڑے اور کہا ہے کہ عام آدمی کو بجلی کے بھاری بل جبکہ بیوروکریسی کو ایسے نوازا جا رہا ہے ،یہ نگران سیٹ اپ ہونا ہی نہیں چاہئے، اس نگران حکومت نے عام آدمی کے لیے کیا کرنا ہے،
تفصیلات کے مطابق کمشنر لاہورڈویژن محمد علی رندھاوا کو چندروزقبل لینڈ کروزرفراہم کی گئی ہے ،نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی نے لینڈ کروزر وی ایٹ کی چابی کمشنر لاہور کے حوالے کی۔
چیف انجینئر ایل ڈی اے اسرار سعید،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عبدالاسلام عارف بھی موجود تھے ، چیف سیکرٹری پنجاب، آئی جی پنجاب، ایس ایم بی آر کے پاس وی ایٹ گاڑیاں ہیں۔
مزیدپڑھیں:عام انتخابات کے نتائج سپریم کورٹ میں چیلنج
خبر سامنے آنے کے بعدبجلی کے بلوں اور مہنگائی کے ستائے عام شہری پھٹ پڑے۔
شہریوں نے کہاکہ ایسے وقت میں جب پاکستان کے پہلے سے غریب طبقے پر بوجھ ڈالا جارہا ہے، ان حالات میں یہ لازم ہے کہ ان افسران پر سوال اٹھایا جائے جن کو مفت آسائشیں دی جارہی ہیں کہ انھیں یہ آسائشیں مفت کیوں ملیں؟
شریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کو مفت بجلی کی سہولت سمیت دیگر مراعات کو ختم کرنا ہی اس تمام تر معاملے کا حل ہے۔
شہریوں کا کہنا تھااکہ یہ بات صرف بجلی کی آسائش ملنے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس سوال پر ہے کہ یہ مفت آسائش ملنے کا آخر جواز کیا ہے؟ فائدہ ہونا یا نہ ہونا ایک بڑی بحث کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ آئی ایم ایف کی بات نہیں ہے بلکہ اگر پاکستانی معاشرے کو امیر طبقے کی جکڑ سے نکالنا ہے تو یہ سوال پوچھنا اور ایسے اقدام کرنا جن سے ان کو بھی بِل بھرنے کا موقع دیا جائے ضروری ہیں۔
انہوں نے کہاکہ عام آدمی کو بجلی کے بل بیوروکریسی کو ایسے نوازا جا رہا ہے یہ نگران سیٹ اپ ہونا ہی نہیں چاہئے ۔
انہوں نے کہاکہ اس نگران حکومت نے کیا عام آدمی کے لیے کرنا ہے،ان کا کام تو صرف ان سرکاری افسران کو کو کروڑوں روپے کی گاڑیاں فراہم کرنا ہے تاکہ بعد میں ان سے فوائد حاصل کیے جاسکیں۔
شہریوں نے نگراں وزیراعلیٰ سے اپیل کی کہ خدارا!غریب عوام کا سوچیں ،امیروں کو کسی چیز کی ضرورت نہیں،غریب آدمی دو وقت کی روٹی کمانے کے لئے در بدر پھر ریا ہے۔
دوسری جانب پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کے وائس چانسلر ندیم الحق نے بتایا کہ ہر ماہ کے اوائل میں ملنے والی تنخواہ میں حکومت کی جانب سے دی گئیں آسائشوں کا تذکرہ نہیں ہوتا۔
ندیم الحق کہتے ہیں کہ ہر چھوٹی چھوٹی آسائش کے بارے میں پتا بھی نہیں چلتا کہ کسے ملتا ہے اور کہاں ملتا ہے۔
تاہم وہ کہتے ہیں کہ اس سسٹم کو ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔











