اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت کفریہ نظام رائج ہے،سب کے سب سیاستدان اندر سے ملے ہوئے ہیں اور کھاپی رہے ہیں،اسلامی نظام نہ کوئی لاسکا ہے اور نہ ہی لانا چاہتا ہے،ہمارےاداروں کو اس بارے میں سوچنا چاہیے کہ اس قوم میں کوئی اچھے اور پرہیزگار، نیک لوگ نہیں ہیں، ہر ٹائم صرف انہی لوگوں کو لے کے آتے ہیں سامنے، ان کی داستانیں فحاشی اور بے حیائی کی ہوتی ہیں ، جمعیت علمائے اسلام قوم کے ساتھ دھوکہ کر رہی ہے ،باقی سیاسی جماعتیں تو دین نہیں جانتیں، یہ تو دین جانتے ہیں ،لیکن انہوں نے آج تک قران و سنت کے نفاذ کے لیے کتنی قربانیاں دی ہیں ؟کتنے ان کے شہید ہوئے ہیں ؟کتنے لوگ جیلوں میں گئے ؟ اسلامی نظام کے لئے صحابہ کرام نے قربانیاں دیںاور یہاں پر جو قربانیاں دیتے ہیں ان کو دہشت گرد قرار دے دیاجاتا ہے، یہ سب کے سب مطلب کے یار ہیں ،اس لیے انتخابات ملک کے مسائل کا حل نہیں ، انتخابات ملتوی کیے جائیں اور ان سب کو کشمیر میں جہاد پر بھیجا جائے جب جہاد کر کے واپس آجائیں تو پھر ان کو اقتدار میں لے کر آئیں۔
ایک انٹرویو دیتے ہوئے لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے غیر شرعی نکاح کیس پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف عمران خان نے ایسانہیں بلکہ یہاں پر ایک لمبی فہرست موجود ہے، جن میں صدر، وزیراعظم ،پولیس افسران اوردیگر اہم سرکاری اداروںکے افسران کی ایک بڑی تعداداس کام میں ملوث ہے،
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے چلو نکاح توکیا مگر باقی جو میں نے اوپرنام لیے ہیں وہ بغیر نکاح کے کام چلا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے اگر عمران خان نے جان بوجھ کر نکاح کے اوپر نکاح کیا ہے تو بلا شبہ یہ گناہ کا کام ہے لیکن اگر ان کو پتہ نہیں تھا اور انہوں نے یہ کیا تو پھر یہ گناہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو شادی کیوں نہیں کر رہے؟ کتنی عمر ہو گئی ہے ان کی؟ 30 سال سے اوپر ان کی عمر ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گیارہ،بارہ سال کے بعد لڑکے میں خواہش پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے اور انسان بے بس ہوتا ہے کیونکہ اللہ پاک کا یہ سسٹم بنایا ہوا ہے ،اس لئے اس عمر میں بھی بلاول اگر شادی نہیں کرے اس کا مطلب ہے کہ وہ خود تاخیر کر رہے ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں مولانا عبدالعزیز نے کہا کہ بلاول بھٹو کو جلد از جلد شادی کر لینی چاہیے ،کیونکہ وہ عنقریب بلاول وزیراعظم بننے والے ہیں، اگر وہ شادی نہیں کرتے تو وہ قوم کی بیٹیوں کے ساتھ کیا سلوک کرینگے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سارا نظام بے حیائی اور فحاشی کا نظام ہے ،ہمارا نظام تعلیم جو اسکولز ،کالجزکا ہے وہ بھی بے حیائی پھیلا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سارا نظام باطل ہے ،اس طاغوتی نظام کے خلاف ساری پاکستانی قوم جاگ جائے۔
مزید پڑھیں: غیرشرعی نکاح کیس: عمران خان، بشریٰ بی بی کو 7، 7 سال قید کی سزا
انہوں نے کہا کہ عمران خان تو ووٹوں سے آئے تھے وہ’’ ان‘‘ کے پسندیدہ تھے اور ان کو ’’وہ‘‘ لے بھی آئے اور اب ان کو یہ بندہ پسند نہیں اب ’’وہ‘‘ نواز شریف کو لانا چاہ رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ یہ سارا ہمارا نظام کفرکا نظام ہے، اس کا اسلام کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
ان کا کہناتھ اکہ عمران خان نے جو پہلی شادی کی تھی اس سے بھی کافی مسائل پیدا ہوئے ،پھر ریحام خان سے شادی کی ،اس سے بھی کافی مسائل پیدا ہوئے اب پھر انہوں نے بشرمانیکا سے شادی کی ہے اس سے بھی ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارےاداروں کو اس بارے میں سوچنا چاہیے کہ اس قوم میں کوئی اچھے اور پرہیزگار، نیک لوگ نہیں ہیں، ہر ٹائم صرف انہی لوگوں کو لے کے آتے ہیں سامنے، ان کی داستانیں فحاشی اور بے حیائی کی ہوتی ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کے نام پر اس ملک پر رحم کریں۔
انہوں نے کہا کہ قران و سنت کی روشنی میں 99فیصد لوگ پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ(ن) ،تحریک انصاف ،جمعیت علماء اسلام ، ایم کیو ایم سے ہیں جوپاکستان کے بڑے بڑے عہدوں پر فائزہ ہیں مگروہ ان عہدوں کےاہل ہی نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکمران بننے کے لیے اسلام میں 70 صفات دیکھی جاتی ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن بھی قران و سنت کی روشنی میں اس ملک کے سربراہ بننے کے اہل نہیں ہیں ،
انہوں نے کہا کہ ان سب کو پہلے جہاد کے لیے بھیجاجائے پھر یہاں پر ان کو برسر اقتدار لائیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ سب کھانے پینے والے لوگ ہیں، میں ان سب کا احترام کرتا ہوں مگرحقیقت یہ ہے
انہوں نے کہا کہ ناموس رسالتﷺ کے نام پر ملین مارچ کر کے یہ لوگ اقتدار لے لیتے ہیںاورپھر اقتدارمیں آکر کفریہ نظام چلاتے ہیں
ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام قوم کے ساتھ دھوکہ کر رہی ہے ،باقی سیاسی جماعتیں تو دین نہیں جانتیں، یہ تو دین جانتے ہیں ،لیکن انہوں نے آج تک قران و سنت کے نفاذ کے لیے کتنی قربانیاں دی ہیں ؟کتنے ان کے شہید ہوئے ہیں ؟کتنے لوگ جیلوں میں گئے ؟
انہوں نے کہاکہ جمعیت علمائے اسلام کاکوئی بھی بندہ جیل میں گیا تو جمہوریت کے لیےگیا، قران و سنت کے لیے کوئی بھی جیل میں نہیں گیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی نظام کے لئے صحابہ کرام نے قربانیاں دیںاور یہاں پر جو قربانیاں دیتے ہیں ان کو دہشت گرد قرار دے دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ سب کے سب مطلب کے یار ہیں ،اس لیے انتخابات ملک کے مسائل کا حل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات ملتوی کیے جائیں اور ان سب کو کشمیر میں جہاد پر بھیجا جائے۔











