لاہور میں ڈانس کلب اور نائٹ پارٹیاں عروج پر،انتظامیہ ستو پی کر سو گئی

لاہور(فاطرملک سے)لاہور شہر‘ پاکستان میں آرٹ اور کلچر کا گڑھ ہے۔

یہاں جدید ترین سینما ہاؤس اور تھیٹر موجود تھے۔ وسیع و عریض اور جدید فلم اسٹوڈیو ہوا کرتے تھے۔

وقت گزرتا گیا پاکستان پر اخلاقی مفلسی کی مستقل چھاپ لگ گئی۔

یہ ایک ایسا المیہ ہے جس سے ہماری قوم‘ معاشرہ یا ملک آج تک باہر نہیں نکل پایا۔ ویسے اب باہر نکلنے کے آثار بھی نہیں ہیں۔

یہیں سے بنیادی مسئلہ جنم لیتا ہے کہ ’’فحاشی‘‘ یا ’’غیر اخلاقی‘‘ کی اصل تعریف کیا ہے؟ کیا یہ موجود ہے یا نہیں؟ یا معاشرے میں بند دروازوں میں اس طرح موجود ہے کہ پورا ملک اس کی لپیٹ میں ہے۔کیا کوئی ایسا قریہ ہے جہاں صرف اخلاقیات ہی اخلاقیات کا راج ہے۔

یہ سوال اٹھانے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ لاہور میں نائٹ کلب کھل گئے ہیں یہاں فحاشی پروان چڑھتی ہے۔ رقص اس طرح کے ہوتے ہیں کہ لوگوں کے اخلاق بگڑنے کا احتمال ہے۔

جوہر ٹائون لاہور میں واقع ڈانس کلب میں لڑکے اور لڑکیاں شراب کے نشے میں دھت ہو کر ایسےڈانس کرتے ہیں کہ اس کلب کو جوائن کرنے والے پھر اسی کلب کے ہو کر رہ جاتے ہیں

عریانی، فحاشی اور عیاشی کے لوازمات سے بھرپور نائٹ کلب میں شرکت کیلئے آنے والوں کی قطاریں لگی ہوتی ہیں ۔

مگر کیا ہمارا سسٹم  اتنا کمزور ہے کہ طاقتور جو مرضی کرے، اس کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا۔ لاہور ہی میں بڑے بڑے فارم ہاؤسز ہیں جہاں پر یہ نائٹ کلب کھلے ہوئے ہیں۔

تفریح کی وہ کون سی قسم ہے، جس کا انتظام و اہتمام یہاں نہیں ہوتا، خوبصورت ترین ڈانس فلور‘ مے اور نشاط کا مکمل بندوبست بلکہ دنیا کی ہر وہ عیاشی موجود ہے جس کا مغرب میں بھی تصور کرنا ذرا مشکل ہے۔

مگردوسری جانب دیکھا جائے تو ہماری انتظامیہ ستو پی کر سوئی ہےاور اسے کوئی پرواہ نہیں کہ آج کے دور میں ہمارا نوجوان اس کلب کی وجہ سےبے راہ روی کا شکار ہوچکا ہے۔

مزید خبریں