جنرل فیض کی سیاست میں مداخلت کے ثبوت کس کے پاس؟ جانیے اہم رازوں سے پردہ اٹھانے والی رپورٹ

آسلام آباد (روشن پاکستان نیوز)سابق ڈی جی ائی ایس ائی جنرل ریٹائر فیض حمید سابقہ دور حکومت میں کیسے کیسے ڈبل گیم کھیلتے رہے آئیے ہم بتاتے ہیں کہ انہوں نے کون سی جماعت کو کیا پیشکش کی اور ان کو اگے سے کیا جوابات ملتے رہے۔

تفصیلات کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ سال ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں جنرل ریٹائر فیض حمید نے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی پیشکش کی تھی جنرل فائض حمید نے ہمیں افر دی کہ اپ چھ وزارتیں لے لیں اور حکومت میں شامل ہو جائیں اور عمران خان کے ساتھ مل کر اپنی حکومت میں کام کرتے رہیں تاہم  صدر زرداری نے کہا کہ میں نے ان کی یہ افر اس لیے ٹھکرا دی کیونکہ ہم اکثریت میں تھے اور ہمیں چھ وزارتیں دے کر کھڈے لائن لگانے کی پیشکش کی گئی تھی۔

اسی طریقے سے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی گزشتہ سال ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ مجھے جنرل باجوا جنرل نوید مختار اور جنرل فیض نے وزیراعظم بننے کی پیشکش کی تھی اگر میں یہ پیشکش قبول کر لیتا تو عمران خان کبھی بھی وزیراعظم نہ بن پاتے لیکن میں نے انہیں برملا کہا کہ میں اپنے بڑے بھائی میاں محمد نواز شریف کی پیٹھ میں چھرا گھوم کر وزیراعظم بننے کو ترجیح نہیں دوں گا میں اپنے بڑے بھائی نواز شریف کے لیے ایسی 10 وزارت عظمیٰ بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔

مزید پڑھیں:9 مئی واقعات میں فیض حمید کا ہاتھ ہوسکتاہے لیکن تصدیق نہیں کرسکتا، خواجہ آصف

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمیں حکومتوں کا کوئی شوق نہیں ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ترقی کرے اور پھلتا پھولتا رہے جبکہ ایک انٹرویو میں میاں محمد نواز شریف نے بھی کہاہے کہ جنرل باجوہ اور جنرل فیض میں ان کی حکومت کو گرانے میں اہم کردار ادا کیا اور چار ججوں کے ساتھ مل کر 20 کروڑ عوام کی چلتی حکومت کو ختم کر دیا اس کا حساب انہیں دینا ہوگا۔

نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں تمام انکشافات گزشتہ رات براہ راست نشر کیے گئے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت کے ڈی جی ائی ایس ائی جنرل ریٹائر فیض حمید کیسے ڈبل گیم کھیل رہے تھے ایک طرف تو وہ پاکستان تحریک انصاف کو حکومت کو مکمل سپورٹ کرنے کا اندیہ دیتے تھے تو دوسری جانب وہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نون کی جماعتوں کے سربراہان کو بھی وقتاً فوقتاً مختلف وزارتوں اور حکومتوں کی پیشکش کرتے رہے۔ یاد رہے کہ سابق پی ٹی ائی ایس ائی ان دنوں پاک فوج کی تحویل میں ہے اور ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کاروائی کا اغاز کیا جا چکا ہے

مزید خبریں