اسلام آباد(سدھیرکیانی) مالی سال25- 2024ء کے فنانس بل میں حالیہ بحث کے دوران قائمہ کمیٹی برائے فنانس میں صحت عامہ اور مالیاتی پالیسی میں پیچیدگی سے ایک نیا تنازعہ پیدا ہو گیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق مجوزہ فنانس بل سے تمباکو انڈسٹری کو 120 ارب روپے کا اضافی فائدہ ہو گا۔حکومت نے تمباوکو کمپنیوں کو فائدہ پہچانے کے لیے انہیں ٹیکس سلیب میں رعایت دی ہے جس کے تحت دوسرے درجے کے تمباکو برانڈز کوجو ٹیکس پہلے 125 روپے پر دینا پڑتا تھا اب وہی ٹیکس 177 روپے کی قیمت پر ادا کرنا پڑے گا۔
اس سے تمباکو کمپنیوں کے منافع میں اضافہ ہو گا تاہم دوسری طرف صحت عامہ اور عوامی بہبود کے لیے درکار وسائل میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے سرگرم کارکن ملک عمران احمد نے فنانس بل کی تجاویز پرمایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس سلیبز میں اضافے سے تمباکو انڈسٹری کے منافع کو تقویت دینے سے نہ صرف صحت عامہ کے فروغ کی کوششوں کو دھچکا پہنچے گا بلکہ اس سے شہریوں پر معاشی بوجھ میں کمی لانے کا سنہری موقع بھی ضائع ہو جائے گا۔،ہیومن ڈیویلپمنٹ فاؤنڈیشن ( ایچ ڈی ایف ) میں تمباکو کنٹرول مہم کی فوکل پرسن عروج راجپوت نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب علاج معالجے کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے حکومت کی جانب سے تمباکو پر ٹیکس بڑھانےسے اپنی آمدنی میں اضافے کی بجائے تمباکو انڈسٹری کے مفادات کو ترجیح دینا بہت تکلیف دہ ہے ۔
اس کے برعکس عوام کے لیے ادویات پر سیلز ٹیکس ہے جب کہ بجلی گیس، کھانے پینے کی اشیاء کی خریداری کے حوالے سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے ۔اس آمدنی کی بدولت ادویات پر سیلز ٹیکس میں کمی لائی جا سکتی تھی اور دیگر ضرورت کی اشیاء کے حوالے سے عوام پر دباؤ میں کمی لائی جا سکتی تھی ۔معاشی ماہرین کی را ئے ہے کہ ٹیکس کی شرح میں اضافے کرتے ہوئے اور موجودہ سلیب کو برقرار رکھتے ہوئے نہ صرف اضافی آمدنی ہوتی بلکہ اس فنڈ سے عوام پر بوجھ میں کمی لائی جا سکتی تھی ۔اس طرح صحت عامہ کے لیے درکار وسائل میں اضافہ بھی کیا جا سکتا تھا۔اس کے برعکس، فنانس بل 2024-2025 کے تحت حالیہ ترامیم نے دواسازی کی مصنوعات پر سیلز ٹیکس کی کم شرح کےبجائے 18 فیصد کی معیاری شرح عائد کی گئی ہے۔ مزید برآں، خیراتی ہسپتالوں اور غیر منافع بخش ہسپتالوں کی سہولیات کے ذریعے درآمد کیے جانے والے سامان کے لیے بڑے پیمانے پر فراہم کی جانے والی رعایت ختم کر دی گئی ہے، جو ممکنہ طور پر صحت کی ضروری خدمات کی موثر فراہمی پر منفی اثرات مرتب کرے گی ۔
تمباکو کی روک تھام کے سرگرم کارکن ملک عمران احمد نے اس موقع پر مزیدکہا، “صحت عامہ اور فلاح و بہبود پر تمباکو کی صنعت کو ترجیح دینے سے، حکومت ایک خطرناک مثال قائم کر رہی ہے۔ تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کا معاشی نقصان پہلے ہی 615 ارب روپے سالانہ ہے، صحت کی دیکھ بھال کی فنڈنگ کو کارپوریٹ مفادات پر ترجیح دینے میں عجلت کا مظاہرہ کیا گیا جو کہ عوامی مفادات کے برعکس ہے۔فنانس بل کی تجاویز سے صحت عامہ کی دیکھ بھال کے حامیوں اور عام لوگوں میں تشویش پیدا ہوئی ہے جس کے طویل مدتی اثرات ، معاشی استحکام پر مرتب ہو سکتے ہیں ۔صحت عامہ کے ماہرین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے مطابلہ کیا ہے کہ فنانس بل کی ان تجاویز پر نظر ثانی کی جائے اور ان میں عوامی مفادات کے تناظر میں ردو بدل کیا جائے ۔











