اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)نجی ٹی وی کے سینئر اینکر اقرار الحسن نے بتایا ہے کہ جعلی پیر کو بے نقاب کرنے پر وہ اور اسکے پیروکارگھٹیا حرکت پر اتر آئے ہیں اور انہیں جان سے مارنے کی کوشش کر رہے ہیں،گوجرانوالہ واقعے سے پہلے بھی میرے اوپر کئی بار حملے ہوچکے ہیں ۔
نجی ٹی وی کے سینئر اینکر اقرار الحسن نے گوجرانوالہ میں اپنے اوپر ہوئے حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وہ ایک یونیورسٹی میں پروگرام میں شرکت کے لیے جا رہے تھے چونکہ یہ پروگرام اعلانیہ تھا، حملہ آوروں کو پہلے سے پتہ تھا کہ ہم اتنے بجے یہاں موجود ہوں گے ،تو ہم سے پہلے سے ہی حملہ آور وہاں موجود تھے، ہم جو نہی یونیورسٹی کے گیٹ کے قریب پہنچے تو درجنوں مرد و خواتین نے ہمارے اوپر ڈنڈوں اور سوٹوں سے حملہ کر دیا۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اور ان کی ٹیم کے دیگر چار ارکان کرولا گاڑی میں تھے، کیمرا مین پہلے ہی اتر چکا تھا جبکہ ہم چار لوگ گاڑی میں موجود تھے ،حملہ آوروں نے گاڑی کےاگلے شیشے پرڈنڈے مار کراسے توڑ دیااور پھر میرے اوپر تیزاب پھینکنے کی کوشش کی، لیکن اللہ پاک نے بچا لیا ،اگر میرے اوپر تیزاب چلا جاتا تو خدانخواستہ میں مر بھی ہو سکتا تھا یا پھر عمر بھر کی معذوری بھی ہو سکتی تھی۔
میری والدہ نے بھی مجھے کہا کہ اگر ایک قطرہ بھی تمہاری آنکھ میں چلا جاتا تو تمہاری آنکھ ضائع ہو جاتی، لیکن بچانے والی اللہ پاک کی ذات تھی اس لیے بچت ہو گئی۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ حملہ کرنے والے جعلی پیر حق خطیب کے چیلے تھے، ان میں ٹرانسپورٹر مافیا اور دیگر ایسے لوگ موجود تھے جن کے ذریعے معاش پر ہم نے چوٹ لگائی ہے، ٹرانسپورٹرز لوگوں کو بے وقوف بنا کر اس جعلی شف شب پیر کے پاس لے جاتے تھے اور دم کرواتے تھے اوراپنے پیسے وصول کرلیتے تھے،اب لوگوں کو حقیقت پتہ چلی ہے تو وہ دم کروانے نہیں جاتے اس لئے ٹرانسپورٹ مافیا میرے خلاف ہوگیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی میرے اوپر کئی بار حملہ ہو چکا ہے کیونکہ میں اس جالی پیر کو بے نقاب کرتا رہا ہوں اور کرتا رہوں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے کئی ایسے مرد و خواتین حضرات نے بتایا کہ جعلی پیر کے آستانے پر چیلوں نے لنگر کے نام پر ان سے پیسے بٹورے ہیں اور اب وہ پیسے دے ،دے کر کنگال ہوچکے ہیں ، وہ اب مزید پیسے بھی نہیں دے سکتے ،یہی چیزیں میں عوام کے سامنے لے آیا جس جعلی پیر اور اس کے پیروکار جن کا ذریعہ معاش بند ہو چکا ہے شدید غصے میں ہیں۔
ا قرار الحسن نے کہا کہ ان پر حملہ کرنے والوں کی ویڈیوز اور تصاویر موجود ہیں، ہم نے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی جاری کر دی ہیں اور پولیس کو بھی فراہم کر دی ہیں، امید ہے پولیس ایکشن لے گی اور جلد سے جلد ملزموں کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لائے گی۔











