اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)کابینہ ڈویژن نے وفاقی کابینہ کے فیصلوں کی روشنی میں سفری پالیسی کا اجرا کر دیا، ناگزیر صورتحال نہ ہونے پر بیرون ملک سفر کی اجازت کفایت شعاری پر قائم کمیٹی سے لینا لازمی قراردیدیا گیا، سرکاری افسران کے بیرون ملک دوروں کے دوران فائیو سٹار ہوٹل میں قیام پر پابند ی عائد کردی، معاون سٹاف کے بیرون ملک سفر کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ۔
دستاویزکے مطابق وزیر اور سیکرٹری کے ایک ہی وقت بیرون ملک دوروں پر پابندی عائدکردی گئی،ناگزیر وجوہات کی بنا ءپر دونوں کو بیک وقت بیرون ملک دورےکی اجازت دی جا سکے گی،استثنیٰ کیلئے متعلقہ وزیر یا ڈویژن کو وزیراعظم سے اجازت لینا ہوگی،بیرون ممالک کانفرنسز میں حتی الامکان کوشش کی جائے کہ سفارتخانے کے افسران شرکت کریں۔
مزید پڑھیں: عام انتخابات میں ن لیگ کو واضح اکثریت کیوں نہیں ملی؟محمد زبیر کا بڑا انکشاف
دستاویز کے مطابق وفاقی وزیر، وزیر مملکت، مشیر، معاونین سال میں بیرون ممالک کے 3دورے کرنے کے مجاز ہوں گے،خاص حالات میں ان دوروں میں بھی اضافہ ہو سکے گا، وزارت خارجہ اور وزارت تجارت کو اس پابندی سے استثنیٰ ہوگا، عالمی مالیاتی اداروں کے دورے کیلئے تمام ڈویژنز کو اکنامک افیئرڈویژن سے این او سی لینا ہو گی،صدر اور چیف جسٹس فرسٹ کلاس سفری سہولیات کے مجاز ہوں گے،وزیراعظم، چیئرمین سینیٹ، سپیکر قومی اسمبلی بزنس کلاس کے مجاز قرار دیئے گئے ہیں،وزیر خارجہ، وفاقی وزراء اورو زیر مملکت بھی بزنس کلاس سفر کے مجاز ہوں گے،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، سروسز چیفس بھی فرسٹ کلاس سفر کے مجاز قرار دیئے گئے ہیں،سینیٹرز، ارکان قومی اسمبلی، وفاقی سیکرٹریز، ایڈیشنل سیکرٹریز، سفیر بھی فرسٹ کلاس سفر کے مجاز قرار دیئے گئے ہیں۔











