لندن: سابق میئر ناہید اعجاز کو بیٹے کے جنسی زیادتی کیس میں ثبوت ضائع کرنے پر قید کی سزا

لندن(روشن پاکستان نیوز): لندن کی بریکنل کونسل کی سابق میئر ناہید اعجاز کو اپنے بیٹے کے جنسی زیادتی کے کیس میں ثبوت ضائع کرنے پر جیل بھیج دیا گیا۔

لندن کی بریکنل کونسل کی سابق میئر ناہید اعجاز کو اپنے بیٹے کے جنسی زیادتی کے کیس میں ثبوت ضائع کرنے اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ بننے کے جرم میں 3 سال قید کی سزا سنا کر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

کراؤن پراسیکیوشن سروس کے مطابق ناہید اعجاز نے تفتیش کے دوران گھر آئی پولیس کو روکا اور اس دوران اپنے بیٹے سے اردو میں بات چیت کی۔ پولیس کا موقف ہے کہ ناہید اعجاز کی اس مداخلت اور مدد کی وجہ سے ان کے بیٹے نے کیس سے جڑے اہم ثبوت ضائع کر دیے تھے۔

ناہید اعجاز کے بیٹے دیوان خان کو ایک 15 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کرنے اور اس کی ویڈیو بنانے کے جرم میں پہلے ہی 12 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ ملزم دیوان خان نے متاثرہ بچی کو گلا کاٹنے اور ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔ ناہید اعجاز بطور میئر اپنے بیٹے کو مختلف سرکاری تقاریب میں اپنے ہمراہ لے جایا کرتی تھیں۔

لندن: شبانہ محمود پر گولڈرز گرین واقعے کے بعد پارلیمانی و عوامی دباؤ میں اضافہ

دوسری جانب، عدالت روانگی سے قبل ناہید اعجاز نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں لیبر پارٹی سے تعلق، اپنے مذہب اور نسل کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ناہید اعجاز 2024 میں لندن کی بریکنل کونسل کی میئر کے عہدے پر فائز رہی ہیں۔

مزید خبریں