بدھ,  19  اگست 2026ء
آزاد کشمیر میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر میرٹ نظرانداز کیا گیا،بلقیس صابر راجہ

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کی مرکزی نائب صدر بلقیس صابر راجہ نے آزاد کشمیر میں خواتین کی مخصوص نشستوں کے امیدواروں کے انتخاب کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام خواتین امیدواروں کو انٹرویو اور اپنا مؤقف پیش کرنے کا مساوی موقع دیا جائے، اس کے بعد میرٹ پر فیصلہ کیا جائے۔ میاں نواز شریف انہیں ملاقات کا موقع دیں ، نوجوان قیادت کو ضرور آگے لایا جائے، تاہم سینئر خواتین کو نظرانداز نہ کیا جائے، اختلاف رائے ہر شخص کا بنیادی حق ہے اور پارٹی کے اندر خواتین کے تحفظات کو بھی سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے، عزت نفس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا،نیشنل پریس کلب اسلام آباد میںعنبر عبداللہ و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلقیس صابر راجہ نے کہا کہ خواتین امیدواروں کو انٹرویو کے لیے بلایا جانا چاہیے تھا، تاہم چند خواتین کو بلایا گیا جبکہ باقی امیدواروں کو انٹرویو کا موقع ہی نہیں دیا گیا، جبکہ مرد امیدواروں کو انٹرویو کے لیے بلایا گیا۔ تمام امیدواروں کو سننے کے بعد فیصلہ کیا جانا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے انہیں شدید ذہنی صدمہ پہنچا ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے کی باقاعدہ سماعت ہونی چاہیے۔ 1989ء سے سیاست میں ہوں اور مسلم لیگ (ن) کے شعبہ خواتین کو اس پلیٹ فارم پر لانے کے لیے طویل جدوجہد کی ہے۔ میری پارٹی کے لیے خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔بلقیس صابر راجہ نے کہا کہ میاں نواز شریف انہیں ملاقات کا موقع دیں اور ان کی پارٹی کے لیے خدمات کے بارے میں خود پوچھیں، اس کے بعد وہ جو بھی فیصلہ کریں گی، مجھے قبول ہوگا۔ باعزت اور پارٹی سے مخلص خواتین کی عزت نفس کا خیال رکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر کو درخواست دی تھی، تاہم اس درخواست پر کیا کارروائی ہوئی، وہ کہاں گئی اور متعلقہ فورم تک کیوں نہیں پہنچائی گئی، اس بارے میں انہیں شکوہ اور گلہ ہے۔ شاہ غلام قادر کی ذمہ داری تھی کہ درخواستوں کو متعلقہ جگہ تک پہنچاتے۔ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے معاملے میں میرٹ کو تباہ کیا گیا اور انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ نوجوان قیادت کو ضرور آگے لایا جائے، تاہم سینئر خواتین کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ اگر سینئر مردوں کو پارٹی میں اعلیٰ عہدے دئیے جاتے ہیں تو خواتین کو بھی ان کا جائز مقام ملنا چاہیے۔بلقیس صابر راجہ نے کہا کہ وہ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ ان تمام خواتین امیدواروں کی بات کر رہی ہیں جنہیں انٹرویو کے لیے نہیں بلایا گیا۔ وہ خواتین رنجیدہ اور دکھی ہیں، انہیں بلایا جانا، سنا جانا اور ان کا مؤقف جاننا چاہیے تھا۔ عہدے بعد کی بات ہیں، کم از کم انسانیت کے ناطے عزت اور احترام کے ساتھ ان کی بات سنی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر فیصلے بند کمروں میں بیٹھ کر ہی کرنے ہیں تو پھر خواتین اپنے گھر بار چھوڑ کر سیاست میں حصہ کیوں لیں؟ حقداروں کو ان کا حق ضرور ملنا چاہیے۔ اختلاف رائے ہر شخص کا بنیادی حق ہے اور پارٹی کے اندر خواتین کے تحفظات کو بھی سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے۔مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کی رہنما نے کہا کہ انہوں نے نوجوانی میں سیاست میں قدم رکھا تو خاندان کی جانب سے مخالفت بھی ہوئی، تاہم انہوں نے مشکلات کی پروا نہ کرتے ہوئے سیاست میں اپنا مقام بنایا۔ انہوں نے کہا کہ 1989ء سے پارٹی کے لیے خدمات انجام دے رہی ہوں اور مشکل ادوار میں بھی پارٹی قیادت اور کارکنوں کے ساتھ کھڑی رہی ہوں۔انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات شفاف ہوئے ہیں اور وہ انتخابی عمل سے مطمئن ہیں، تاہم خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے امیدواروں کے انتخاب کے طریقہ کار پر تحفظات ہیں۔ اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ پارٹی کے لیے گرانقدر خدمات انجام دینے والی سینئر خواتین کو کیوں نظرانداز کیا گیا۔بلقیس صابر راجہ نے کہا کہ ان کی وفاداری ان کے لیے سزا نہیں بننی چاہیے۔ پارٹی قیادت ان کے تحفظات پر توجہ دے اور میاں نواز شریف انہیں ملاقات کا موقع دیں تاکہ وہ آزاد کشمیر میں پارٹی کی خواتین امیدواروں اور مجموعی صورتحال کے بارے میں انہیں اصل حقائق سے آگاہ کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ پارٹی چھوڑنے یا استعفیٰ دینے کا فیصلہ فی الحال نہیں کیا، نواز شریف سے ملاقات کے بعد ہی آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ عزت نفس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور کسی کو بھی خواتین کی عزت نفس مجروح کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔

مزید خبریں