اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر و پاکستان اور جموں و کشمیر لبریشن کمیشن کے زیر اہتمام بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر اسلام آباد پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے کی قیادت کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر و پاکستان کے سابق کنوینر محمد فاروق رحمانی نے کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں سیاہ جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے “ہم چھین کے لیں گے آزادی، ہے حق ہمارا آزادی” کے نعرے لگائے۔ مظاہرے میں حریت رہنماؤں، جموں و کشمیر لبریشن کمیشن کے نمائندگان، سیاسی و سماجی شخصیات اور کشمیری کارکنان نے شرکت کی۔محمد فاروق رحمانی نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام آج بھارت کے یومِ آزادی کو یومِ سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں، جبکہ دنیا بھر میں مقیم کشمیری بھی بھارتی قبضے کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال اور یومِ سیاہ اس امر کا واضح اظہار ہے کہ کشمیری عوام بھارتی تسلط کو مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے خود کشمیری عوام سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے گا، مگر بھارت نے اپنے وعدوں اور عالمی سطح پر کیے گئے عہد سے انحراف کرتے ہوئے کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقِ خودارادیت سے محروم رکھا ہوا ہے۔مقررین سے خطاب کرتے ہوئے محمود احمد ساغر، چوہدری شاہین اقبال ،داؤد یوسف زئی،الطاف احمد بٹ،مشتاق احمد بٹ،زاہد ۔مشتاق، منظور احمد شاہ عادل ترابی رشید شاہ نجیب اللہ غفور اور زاہد صفی ڈائریکٹر کشمیر لبریشن سیل خان افسر خان، غلام نبی بٹ، نصرت بھٹی،کل جماعتی حریت کانفرنس کے سیکرٹری اطلاعات امتیاز وانی اور دیگر نے کہا کہ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر پر ناجائز قبضے کے باعث یومِ آزادی منانے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے طاقت کے زور پر کشمیریوں کے بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں اور گزشتہ کئی دہائیوں سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں-مقررین نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ 79 برس سے اپنے پیدائشی حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور اس دوران ہزاروں کشمیریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ بھارتی ظلم و جبر، گرفتاریوں، تشدد اور دیگر ریاستی ہتھکنڈے کشمیری عوام کے جذبۂ آزادی کو ختم نہیں کر سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ حقِ خودارادیت کشمیری عوام کا بنیادی حق ہے اور اس حق کے حصول تک کشمیریوں کی جدوجہد جاری رہے گی۔ مقررین نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور کشمیری عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کا موقع فراہم کرے۔مقررین نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کیے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ خاموشی اختیار کرنے کے بجائے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور بھارت پر مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے دباؤ ڈالے۔مظاہرے کے اختتام پر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور تحریکِ آزادی کی کامیابی کے لیے عزم کا اظہار کیا گیا۔مظاہرے کے اختتام پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی، شہداء کے درجات کی بلندی، کشمیری عوام کی کامیابی اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔











