اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) آج کے عہد میں بانجھ پن کا مرض بہت تیزی سے پھیل رہا ہے، خاص طور پر مردوں کو اس مسئلے کا سامنا زیادہ ہورہا ہے۔
اب سائنسدانوں نے مردوں میں بانجھ پن کے کیسز میں اضافے کی ایک بڑی ممکنہ وجہ دریافت کی ہے اور وہ ہے فضائی آلودگی۔
یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
میساچوسٹس یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ فضائی آلودگی سے وہ جینز کام کرنا بند کر دیتے ہیں جو مردوں میں صحت مند اسپرمز بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
اس سے قبل بھی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ فضائی آلودگی سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے مردوں میں بانجھ پن کی شرح زیادہ ہوتی ہے، مگر اس کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہوسکی تھی۔
اب اس نئی تحقیق میں ثابت ہوا کہ آلودہ فضا سے مردوں کی تولیدی صحت اور خلیات پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
تحقیق میں دریافت ہوا کہ فضائی آلودگی سے متاثرہ مردوں کے اہم جیز کے ڈی این اے میں کیمیائی تبدیلیاں آتی ہیں۔
یہ تبدیلیاں ایک لائٹ سوئچ کی طرح کام کرتی ہیں جو جینز کے افعال کو بند کر دیتی ہیں۔
محققین نے بتایا کہ اس دریافت سے عندیہ ملتا ہے کہ فضائی آلودگی سے مردوں کی تولیدی صحت پر اثرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ اہم ڈی این اے تبدیل ہوتا ہے اور اسپرمز بننے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ہم یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ فضائی آلودگی کس حد تک مردوں میں بانجھ پن کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اپریل 2023 میں ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ دنیا بھر میں 17.5 فیصد بالغ آبادی کو اپنی زندگی میں کسی وقت بانجھ پن کا سامنا ہوتا ہے۔
یہ اعداد و شمار 1990 سے 2021 کے دوران ہونے والی 100 سے زائد طبی تحقیقی رپورٹس پر مبنی تھے۔
امیر، متوسط اور غریب ممالک میں بانجھ پن کی شرح کے موازنے سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ دنیا کے ہر خطے کے لیے ایک سنگین طبی چیلنج ہے۔
امیر ممالک میں یہ شرح 17.8 فیصد جبکہ متوسط اور غریب ممالک میں 16.5 فیصد ہے۔
اسی طرح ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ہر 3 میں سے ایک کیس میں مردوں میں یہ مسئلہ دریافت ہوتا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی ملاقات
سائنسدانوں کی جانب سے اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کی جا رہی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ اردگرد کے ماحول میں موجود کیمیکلز اس حوالے سے کردار ادا کرتے ہیں مگر شواہد نہ ہونے کے برابر ہیں۔
اس نئی تحقیق میں 2 ہزار سے زائد مردوں کو شامل کیا گیا اور 6 ماہ تک ان کی تولیدی صحت اور ڈی این اے میں آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اوزون، نائٹروجن ڈی آکسائیڈ، سلفر ڈی آکسائیڈ اور فضائی آلودگی کے دیگر ننھے ذرات سے ڈی این اے میں 39 تبدیلیاں آتی ہیں، جن سے بانجھ پن کا خطرہ بڑھتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل ہیومین ری پروڈکشن میں شائع ہوئے۔
اس سے قبل ستمبر 2024 میں برٹش میڈیکل جرنل میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ فضائی آلودگی کے ننھے ذرات کی زد میں رہنے سے مردوں میں بانجھ پن کا خطرہ بڑھتا ہے۔
اسی طرح ٹریفک کے شور سے 35 سال سے زائد عمر کی خواتین میں بانجھ پن کا خطرہ بڑھتا ہے۔
اس تحقیق میں 30 سے 45 سال کی عمر کے 5 لاکھ 26 ہزار مردوں اور 3 لاکھ 77 ہزار سے زائد خواتین کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔
ان میں سے زیادہ تر افراد والدین بننے کے خواہشمند تھے جبکہ ان میں بانجھ پن کا خطرہ بھی کافی زیادہ تھا۔
1995 سے 2017 کے دوران فضائی آلودگی کے ذرات اور ٹریفک کے شور کی اوسط شرح کا ڈیٹا بھی حاصل کیا گیا اور یہ دیکھا گیا کہ تحقیق میں شامل کتنے افراد میں بانجھ پن کی تشخیص ہوئی۔
اس عرصے میں 16 ہزار 172 مردوں اور 22 ہزار 672 خواتین میں بانجھ پن کی تشخیص ہوئی۔
آمدنی، تعلیمی سطح اور پیشے سمیت متعدد عناصر کو مدنظر رکھنے کے بعد دریافت ہوا کہ فضائی آلودگی کے ذرات کی زیادہ سطح میں 5 سال تک رہنے سے 30 سے 45 سال کی عمر کے مردوں میں بانجھ پن کا خطرہ 24 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
البتہ ان ذرات سے خواتین میں بانجھ پن کا خطرہ نہیں بڑھتا، مگر ٹریفک کا شور اوسطاً 10.2 ڈیسی بل ہونے سے آئندہ 5 سال کے دوران 35 سال سے زائد عمر کی خواتین میں بانجھ پن کا خطرہ 14 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
اس سے کم عمر خواتین میں ٹریفک کا شور بانجھ پن کا خطرہ نہیں بڑھاتا جبکہ مردوں کی تولیدی صحت پر بھی اس شور سے کوئی خاص منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔
محققین کے مطابق یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے تو ابھی وجہ کا ٹھوس تعین کرنا ممکن نہیں اور ان کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔











