اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے نتیجے میں سونے کی قیمتیں دو ماہ کی کم ترین سطح تک آگئیں، امریکی ڈالر کا استحکام اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کے خدشات میں اضافے کا باعث بن گیا، جبکہ سرمایہ کاروں کی توجہ عالمی معیشت کی لحظہ لحظہ بدلتی صورتحال پر مرکوز ہے۔
تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 1.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد فی اونس قیمت 4 ہزار 380 ڈالر 62 سینٹ تک گر گئی، اس سے قبل سونے کی قیمت 26 مارچ کے بعد اپنی سب سے کم سطح پر تھی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران پر امریکی کارروائیوں کے بعد امریکی ڈالر گزشتہ 7روز کی بلند ترین سطح پر آگیا ہے۔
ڈالر کی قدر میں اضافے کے باعث دیگر کرنسیوں میں سرمایہ رکھنے والے افراد کے لیے سونا مزید مہنگا ہو گیا، اسٹون ایکس کے سینئر تجزیہ کار میٹ سمپسن کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی تناؤ بدستور برقرار ہے اور امن مذاکرات سے متعلق بار بار غلط توقعات پیدا ہو رہی ہیں، اس لیے امکان ہے کہ ڈالر کی مضبوطی جاری رہے گی اور اسی وجہ سے سونا مزید سستا ہوسکتا ہے۔
سونے کی قیمت میں 2 ہزار روپے سے زائد کی کمی، فی تولہ سونا کتنے کا ہوگیا؟
خیال رہے کہ امریکا کے ایران پر جاری حملوں اور اسرائیل کی جانب سے لبنان پر بمباری جیسے واقعات کے باعث عالمی معیشت بے یقینی اور گراوٹ کا شکار ہے، سونے کے مقابلے میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کے نتیجے میں سونے میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کا عمل جاری ہے۔











