سیالکوٹ(روشن پاکستان نیوز) معروف ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی شادی کی تقریب میں بھگدڑ مچنے سے ایک شخص جاں بحق جبکہ 18 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ واقعے نے سوشل میڈیا پر شہرت، دولت کی نمائش، عوامی اجتماعات کے انتظامات اور حکومتی ترجیحات سے متعلق کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق مسٹر پتلو کی شادی کی تقریبات کے سلسلے میں ایک گراؤنڈ میں خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا، جہاں بڑا اسٹیج بھی سجایا گیا۔ ٹک ٹاکر کی شادی میں شرکت اور اپنے پسندیدہ سوشل میڈیا اسٹار کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ہزاروں مداح گراؤنڈ میں پہنچ گئے۔ رش میں اچانک بھگدڑ مچنے سے متعدد افراد گر کر زخمی ہوگئے، جبکہ ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔
واقعے کے بعد انتظامیہ نے فوری طور پر تقریب رکوا دی اور شرکاء کو منتشر کردیا۔ حکام نے شادی کی تقریبات کے انعقاد کی اجازت بھی منسوخ کردی۔
ڈپٹی کمشنر اویس مشتاق کے مطابق شادی کی تقریبات کے لیے 31 اکتوبر سے 7 نومبر تک اجازت دی گئی تھی، تاہم متعلقہ تقریب عشاء کے بعد منعقد ہونا تھی، جسے انتظامیہ کی مقررہ اجازت اور وقت سے پہلے شروع کردیا گیا۔
اس افسوسناک واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ صحافی ایثار رانا نے ٹک ٹاکرز کی جانب سے شادیوں اور تقریبات پر کروڑوں روپے خرچ کرنے اور حکومتی سطح پر انہیں ملنے والی مبینہ اہمیت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’خدا کی قسم، گھر چلانے کے لیے تین سے چار کام کر رہا ہوں، دوسری طرف ٹک ٹاکرز کروڑوں روپے لٹا رہے ہیں، حکومت بھی ان لوگوں کو پروٹوکول دیتی ہے۔‘‘
ایثار رانا کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کے باعث عام شہریوں کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ ایک طرف محنت کش طبقہ روزگار کے لیے کئی کام کرنے پر مجبور ہے تو دوسری طرف سوشل میڈیا کی دنیا میں بعض شخصیات کی شاہانہ تقریبات اور دولت کی نمائش عوامی بحث کا موضوع بن رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریب میں شرکاء کے لیے 50 موٹر سائیکلوں، ایک گاڑی اور نقد انعامات کی قرعہ اندازی کا بھی اعلان کیا گیا تھا، جبکہ 20 مستحق یتیم بچیوں کے جہیز کے لیے مالی امداد دینے کی بات بھی سامنے آئی تھی۔ ان انعامات نے بھی بڑی تعداد میں لوگوں کو تقریب کی جانب متوجہ کیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ریسکیو حکام کو تقریب میں بڑے اجتماع کے بارے میں پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ ریسکیو 1122 نے چار ایمبولینسز اور ایک موٹر سائیکل ایمبولینس کے ذریعے امدادی کارروائی کی، جبکہ زخمیوں کو علامہ اقبال میموریل ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیا۔
دوسری جانب پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے تقریب کے منتظمین کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی ہے۔ یکم نومبر کی مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مسٹر پتلو سمیت 9 نامزد اور 40 سے 45 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جبکہ 6 افراد کی گرفتاریوں کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔
یہ واقعہ محض ایک شادی کی تقریب میں بدنظمی کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں، سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور عوامی اجتماعات کی نگرانی کے نظام پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے والی شخصیات کو اپنی مقبولیت کے ساتھ سماجی ذمہ داری کا بھی احساس ہونا چاہیے، کیونکہ ہزاروں افراد کو کسی تقریب میں مدعو کرنا یا ان کے اجتماع کا سبب بننا معمولی بات نہیں۔
اس واقعے نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی ذمہ داریوں کو بھی اجاگر کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب کسی تقریب میں ہزاروں افراد کی آمد متوقع تھی تو وہاں داخلے، ہجوم کو قابو میں رکھنے، ہنگامی راستوں اور طبی امداد کے مناسب انتظامات کیوں یقینی نہیں بنائے گئے؟ اجازت نامے کی شرائط پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا؟
پاکستان میں شادی خوشی کا موقع ہوتی ہے، لیکن دولت کی نمائش اور شہرت کی دوڑ میں انسانی جانوں کی حفاظت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ معاشرے میں اصل کامیابی صرف کروڑوں روپے خرچ کرنے یا لاکھوں فالوورز حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ دوسروں کی زندگیوں کا احترام، ذمہ داری اور احساس بھی ہے۔
ایک طرف لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور دوسری طرف دولت کی نمائش کے ایسے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری معاشرتی ترجیحات بدل رہی ہیں یا ہم شہرت اور دولت کو کامیابی کا واحد معیار سمجھ بیٹھے ہیں؟











