هفته,  24 اکتوبر 2026ء
یومِ اقوامِ متحدہ: کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کی آواز سنو !!!

کشمیری عوام کے بنیادی حقوق، شناخت اور سیاسی مستقبل کے تحفظ کی اپیل

تحریر: مشتاق احمد بٹ

سابق سکریٹری اطلاعات کل جماعتی حریت کانفرنس

24 اکتوبر، یومِ اقوامِ متحدہ* ، عالمی برادری کو امن، انصاف، انسانی حقوق، مساوات اور حقِ خودارادیت کے ان اصولوں کی یاد دلاتا ہے جن کی بنیاد پر اس عالمی ادارے کا قیام عمل میں آیا۔ اس موقع پر اقوامِ متحدہ کی توجہ ایک بار پھر جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازع اور وہاں کے کروڑوں عوام کی جانب مبذول کرانا ضروری ہے، جو کئی دہائیوں سے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کے بنیادی حق کے منتظر ہیں۔

کشمیر محض ایک سیاسی یا علاقائی تنازع نہیں، بلکہ کروڑوں انسانوں کے حقوق، شناخت، آزادی، وقار اور مستقبل کا مسئلہ ہے ۔ یہ ان ماؤں کی داستان ہے جو اپنے بچھڑے ہوئے بیٹوں کی واپسی کی منتظر ہیں، ان خاندانوں کا کرب ہے جو اپنے لاپتا عزیزوں کے بارے میں جواب چاہتے ہیں، اور ان نوجوانوں کی بے یقینی ہے جو مسلسل تنازع، پابندیوں اور خوف کے ماحول میں اپنے مستقبل کی تلاش کر رہے ہیں۔

کشمیر کی حقیقت اعداد و شمار، سفارتی بیانات اور سیاسی دعووں سے کہیں آگے ہے؛ اس کے مرکز میں انسان، ان کے بنیادی حقوق، ان کی شناخت اور انصاف کی وہ امید ہے جو کئی دہائیوں سے زندہ ہے۔

مسئلہ کشمیر 1947ء سے اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے ۔ سلامتی کونسل نے اس تنازع کے حوالے سے متعدد قراردادیں منظور کیں، جن میں کشمیری عوام کی رائے معلوم کرنے کے لیے رائے شماری کا اصول بھی شامل تھا۔ تاہم، ان قراردادوں پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث یہ تنازع آج بھی حل طلب ہے، جبکہ کشمیری عوام اپنے بنیادی حقِ خودارادیت کے حصول کے منتظر ہیں۔

یہ صورتِ حال اقوامِ متحدہ کی ساکھ اور عالمی نظامِ انصاف کے لیے ایک سنجیدہ امتحان ہے۔ کسی بھی عالمی ادارے کی اہمیت صرف قراردادوں، اجلاسوں اور بیانات سے نہیں، بلکہ اس کی عملی کوششوں سے ثابت ہوتی ہے۔ اگر اقوامِ متحدہ واقعی امن، انصاف اور انسانی حقوق کا محافظ ہے تو اسے کشمیر کے مسئلے پر مؤثر، غیر جانب دار اور نتیجہ خیز کردار ادا کرنا ہوگا۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق، آزادیِ اظہار، سیاسی سرگرمیوں، صحافتی آزادی، شہری آزادیوں، گرفتاریوں، طویل حراستوں اور مبینہ جبری گمشدگیوں سے متعلق خدشات عالمی توجہ کے متقاضی ہیں۔ ایسے کشمیری قیدی بھی موجود ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے کئی قیمتی عشرے جیلوں میں گزارے۔ ان کی طویل قید نے نہ صرف ان کی زندگیاں متاثر کیں بلکہ ان کے خاندانوں کو بھی نسلوں تک جاری رہنے والے کرب میں مبتلا رکھا۔

ہر گرفتاری، مقدمے اور حراست کے معاملے میں شفاف قانونی کارروائی، منصفانہ سماعت، انسانی سلوک اور بنیادی حقوق کی ضمانت ضروری ہے۔ اقوامِ متحدہ کو چاہیے کہ وہ انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور آزاد مبصرین کو مقبوضہ جموں و کشمیر تک مؤثر رسائی دلانے کے لیے عملی اقدامات کرے، تاکہ وہاں کی صورتِ حال کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جا سکے اور متاثرین کو انصاف فراہم ہو۔

حالیہ برسوں میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی، سیاسی، انتظامی اور آبادیاتی حیثیت میں یک طرفہ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ان اقدامات نے کشمیری عوام کے سیاسی حقوق، اجتماعی شناخت، زمین، روزگار، ثقافتی ورثے اور مستقبل کے بارے میں گہری تشویش پیدا کی ہے۔ کشمیر کے تاریخی تشخص کو کمزور کرنے، مقامی آبادی کے سیاسی اختیار کو محدود کرنے اور یک طرفہ طور پر ایسے فیصلے نافذ کرنے کی کوششیں کسی بھی منصفانہ اور پائیدار حل کی روح سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

اقوامِ متحدہ کو چاہیے کہ وہ بھارت کے ان تمام یک طرفہ اقدامات کا سنجیدہ جائزہ لے جو کشمیری عوام کے بنیادی حقوق، متنازع خطے کی حیثیت اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے اصولوں سے متصادم ہیں، اور ایسے اقدامات کو واپس لینے کے لیے مؤثر سفارتی دباؤ ڈالے ۔ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کسی ایک فریق کے یک طرفہ اقدامات سے نہیں، بلکہ کشمیری عوام کی آزاد، منصفانہ اور بامعنی رائے کے ذریعے ہونا چاہیے۔

اے اقوامِ متحدہ! کیا تم ان ماؤں کی فریاد سنو گے جو اپنے پیاروں کی واپسی کی امید میں زندگی گزار رہی ہیں؟ کیا تم ان خاندانوں کے دکھ کا جواب دو گے جو اپنے عزیزوں کے بارے میں سچ جاننے کے منتظر ہیں؟ کیا تم ان قیدیوں کے کرب پر غور کرو گے جن کی زندگیوں کے کئی قیمتی عشرے جیلوں میں گزر گئے؟ اور کیا تم ان نوجوانوں کے مستقبل کے بارے میں سوچو گے جو کئی دہائیوں سے اپنے بنیادی حقوق اور سیاسی اختیار کے منتظر ہیں؟ یا ان نیم بیواؤں کی جنہیں دہائیوں سے معلوم ہی نہیں کہ ان کے سہاگ ذندہ ہے یا شہید کئے گئے ہیں !!!

یہ سوال کسی ادارے کی تضحیک کے لیے نہیں، بلکہ اقوامِ متحدہ کو اس کے بنیادی مقاصد، ذمہ داریوں اور وعدوں کی یاد دہانی کے لیے ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری:

– مسئلہ کشمیر کے پُرامن، منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے مؤثر سفارتی کوششیں تیز کریں؛
– سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں قابلِ عمل لائحۂ عمل وضع کریں؛
– کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو عالمی ایجنڈے پر مؤثر طور پر بحال کریں؛
– انسانی حقوق کی صورتِ حال کی آزادانہ اور غیر جانب دارانہ نگرانی یقینی بنائیں؛
– سیاسی قیدیوں کی رہائی، منصفانہ عدالتی کارروائی اور طویل حراستوں کے خاتمے کے لیے اقدامات کریں؛
– بھارت کے یک طرفہ انتظامی، آئینی اور آبادیاتی اقدامات کا جائزہ لے کر انہیں واپس لینے پر زور دیں؛
– کشمیری عوام کی سیاسی، ثقافتی اور آبادیاتی شناخت کے تحفظ کی ضمانت دیں؛
– اور تمام متعلقہ فریقوں کو بامعنی، جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات کی طرف راغب کریں۔

کشمیر کا حل صرف کشمیری عوام کے لیے اہم نہیں، بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے امن، سلامتی اور ترقی سے وابستہ ہے۔ یہ خطہ مسلسل کشیدگی، عسکری مقابلے اور بداعتمادی کے بجائے تعاون، تجارت، تعلیم، ترقی اور خوش حالی کا مستحق ہے۔ ایک منصفانہ اور پائیدار حل نہ صرف کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کو تسلیم کرے گا بلکہ خطے میں امن و استحکام کی نئی بنیاد بھی فراہم کرے گا۔

یومِ اقوامِ متحدہ ہمیں یہ سوچنے کا موقع دیتا ہے کہ عالمی اصولوں کی اصل قدر ان کے یکساں اور عملی نفاذ میں ہے۔ اگر انسانی حقوق، انصاف، مساوات اور حقِ خودارادیت عالمی اقدار ہیں تو ان کا اطلاق ہر خطے، ہر قوم اور ہر انسان کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ کسی بھی قوم کے حقوق کو سیاسی مصلحتوں، طاقت کے توازن یا سفارتی خاموشی کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔

کشمیر کو محض ایک علاقائی تنازع نہیں، بلکہ انسانوں کے حقوق، شناخت، وقار اور مستقبل سے وابستہ مسئلہ سمجھا جائے۔ اقوامِ متحدہ اپنے وعدوں کو عملی پیش رفت میں بدلے، بھارت کے یک طرفہ اقدامات کا نوٹس لے، کشمیری عوام کے بنیادی حقوق اور تشخص کا تحفظ یقینی بنائے، اور انہیں اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حقیقی، آزاد اور منصفانہ موقع فراہم کرے۔

اب اقوامِ متحدہ کے لیے محض تشویش کے اظہار کا وقت نہیں، عملی اقدام کا وقت ہے۔ سلامتی کونسل فوری طور پر ایک واضح، قابلِ نگرانی اور وقت مقررہ پر مبنی لائحۂ عمل پیش کرے؛ انسانی حقوق کے آزاد مبصرین کو مقبوضہ جموں و کشمیر تک بلا رکاوٹ رسائی دلائی جائے؛ سیاسی قیدیوں، لاپتا افراد اور متاثرہ خاندانوں کے معاملات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں؛ اور تمام یک طرفہ اقدامات کے خاتمے کے لیے مؤثر سفارتی دباؤ استعمال کیا جائے۔ اقوامِ متحدہ کو کشمیری عوام، متعلقہ فریقوں اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں کے ساتھ ایک مستقل رابطہ کار نظام قائم کرنا چاہیے، تاکہ وعدے محض بیانات نہ رہیں بلکہ ان کی پیش رفت باقاعدگی سے ناپی، رپورٹ کی اور عوام کے سامنے جواب دہ بنائی جائے۔

تاریخ یہ ضرور پوچھے گی کہ جب ایک قوم کئی دہائیوں سے اپنے مستقبل کے بارے میں جواب کی منتظر تھی، جب اس کی شناخت اور حقوق کو مسلسل دباؤ کا سامنا تھا، اور جب عالمی اصولوں کے نفاذ کا سوال اٹھتا رہا، تو عالمی اداروں نے اس انتظار کو ختم کرنے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے۔

کیونکہ امن صرف جنگ کی عدم موجودگی کا نام نہیں؛ حقیقی امن وہ ہے جس میں انصاف ہو، حقوق محفوظ ہوں، شناخت کا احترام کیا جائے اور کسی قوم کی آواز مسلسل نظرانداز نہ کی جائے۔

مزید خبریں