جمعرات,  14 مئی 2026ء
پاکستانی تارکینِ وطن: قومی ترقی میں ایک نظرانداز شدہ قوت
پاکستانی تارکینِ وطن: قومی ترقی میں ایک نظرانداز شدہ قوت

دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانی تارکینِ وطن کی تعداد تقریباً نوے لاکھ سے ایک کروڑ کے درمیان ہے۔ یہ وہ پاکستانی ہیں جو اپنے وطن سے دور رہتے ہوئے بھی دل و جان سے پاکستان سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہر سال یہی اوورسیز پاکستانی تقریباً بیس ارب ڈالر سے زائد زرِ مبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ معاشی مشکلات، قرضوں کے بوجھ اور زرمبادلہ کے بحران کے دوران یہی تارکینِ وطن پاکستان کے لیے ایک مضبوط سہارا ثابت ہوتے ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد اور عظیم خدمات کے باوجود اوورسیز پاکستانیوں کو ملکی سیاست اور قانون سازی میں مؤثر نمائندگی حاصل نہیں۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 63(1)(c) کے تحت دوہری شہریت رکھنے والے افراد پارلیمنٹ کے رکن نہیں بن سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ لاکھوں تعلیم یافتہ، تجربہ کار اور کامیاب پاکستانی، جو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں، اپنے ہی وطن کی سیاست میں حصہ لینے سے محروم ہیں۔

آج برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور یورپ سمیت کئی ممالک میں پاکستانی نژاد افراد ممبر آف پارلیمنٹ، وزیر، مشیر، لارڈ، میئر، کونسلر اور اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز ہیں۔ اگر یہی افراد دوہری شہریت کے باوجود ان ممالک میں قیادت کر سکتے ہیں تو پھر اپنے وطن پاکستان میں ان پر پابندی کیوں؟

موجودہ حکومت کے پاس قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت موجود ہے، اس لیے اگر سنجیدگی سے کوشش کی جائے تو آئین میں ترمیم کر کے دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ یہ صرف ایک قانونی تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

اگر اوورسیز پاکستانی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی حاصل کریں تو اس کے بے شمار فوائد سامنے آ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر اوورسیز پاکستانیوں میں سے سرمایہ کاری، سیاحت اور اوورسیز امور کے وزراء مقرر کیے جائیں تو وہ دنیا بھر کے تجربات اور روابط کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری لا سکتے ہیں۔ وہ پاکستان کے خوبصورت شمالی علاقوں، تاریخی ورثے اور ثقافتی حسن کو عالمی سطح پر متعارف کرا کے سیاحت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف روزگار بڑھے گا بلکہ زرِ مبادلہ میں بھی کئی گنا اضافہ ہوگا۔

مزید یہ کہ اوورسیز پاکستانی دنیا کے جدید نظام، شفاف طرزِ حکمرانی اور ترقیاتی ماڈلز کا عملی تجربہ رکھتے ہیں۔ اگر انہیں فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے تو وہ پاکستان میں بہتر قانون سازی، جدید پالیسی سازی اور ادارہ جاتی اصلاحات میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہی طبقہ پاکستان کے قرضوں کو کم کرنے اور معیشت کو مستحکم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنے ان محبِ وطن بیٹوں اور بیٹیوں پر اعتماد کرے، جو برسوں سے دیارِ غیر میں رہ کر بھی پاکستان کی خدمت کر رہے ہیں۔ اوورسیز پاکستانی صرف زرمبادلہ بھیجنے والی مشینیں نہیں بلکہ پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہیں قومی دھارے میں شامل کرنا اور پارلیمنٹ میں نمائندگی دینا پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور عالمی وقار کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے

تحریر اشرف چغتائی لندن

مزید خبریں