لاہور۔۔۔محبت۔۔۔بسنت اور مریم نواز ۔۔۔کہ دل ہوا بو کاٹا

تحریر: فاروق فیصل خان

یہ جو لاہور سے محبت ہے اس کی ایک وجہ بسنت بھی ہے۔میٹرک کرنے کے بعد اکیلے سفر کی اجازت ملی تو ہر سال بسنت کے موقع پر لاہور ضرور جانا ہوتا، یہ سلسلہ ربع صدی سے زائد عرصہ، جب تک پابندی نہیں لگی جاری رہا۔کبھی کزنز کے ہاں تو کبھی دوستوں کے ہمراہ لاہور بھر میں اس تہوار کو جی بھر کر منایا۔نناریاں چوک،پکی ٹھٹی، سمن اباد، اسلامیہ پارک، چوبرجی، شام نگر، گوالمنڈی، انارکلی بازار،اندرون لاہوری و بھاٹی، ہیرا منڈی، ٹکسالی، موچی اور جدید بستیوں کی نائٹ بسنت سب۔
بسنت کا تہوار صرف ایک روز کا ہوا کرتا تھا اور وہ بھی مغرب تک۔اسی کی دہائی میں اندرون لاہور رات کو لائٹیں لگا نائٹ بسنت منانے کا باقاعدہ آغاز ہوا اور پھر یہ سلسلہ پھیلتا گیا۔یہ تہوار جس میں ہر خاص و عام حصہ لیتا دراصل موسم سرما کے اختتام اور بہار کے آغاز کا اعلان ہوتا تھا۔سال بھر پتنگ بازی کا کھیل کرنے والے اس روز پتنگیں نہیں اڑایا کرتے تھے اور نہ ہی حکومت اس دن کا تعین کرتی تھی۔شوقین اپنی حیثیت کے مطابق اہتمام کرتے۔

جنرل مشرف کے دور حکومت میں اس کو سرکاری سطح پر منانے کا آغاز ہوا،وجہ لاہوریوں کی نوازشریف سے لاتعلقی ثابت کرنا تھی جیسے اب عمران خان سے۔مشرف کی روشن خیالی اور سیاسی مفاد نے اس خوبصورت تہوار کو بدصورت بنا دیا۔جدید بستیوں میں بسنت نائٹ پر شراب اور مجروں کی محفلیں “talk of town” ہو گئیں۔کارپوریٹ سیکٹر اور سیٹھ مافیا نے مراعات حاصل کرنے کے لئے پیسہ پانی کی طرح بہایا۔ اس وقت کی نامور اداکاریں آدھ گھنٹے کی پرفارمنس کے لئے منتظمین کے ترلے کرتی نظر آتی کہ کروڑوں کی ویل ہوتی۔اس کے ساتھ ہی ہوائی فائرنگ اور دھاتی ڈور کی قباحتیں بھی در آئیں جس سے خوشی کا تہوار خونی تہوار بن گیا۔مجھے یاد ہے کہ آخری بسنت سمن اباد بچوں کے ہمراہ کزن کے گھر منا رہا تھا، عصر تا مغرب شدید ہوائی فائرنگ ہوئی۔ محسوس ہوتا تھا کہ دو ملکوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی ہو۔کئ گھنٹوں تک فضا میں بارود کی بو موجود رہی۔ڈر کے مارے بچوں کو لے کر چھت سے اتر گیا۔اگلے روز اخبارات یلاکتوں سے بھرے پڑے تھے اور پھر بسنت پر پابندی لگ گئ جو دو دہائیوں تک برقرار رہی۔کسی وزیر اعلٰی کو ہمت نہ ہوئی پابندی ختم کرنے کی۔نتیجہ شہری ایک تہوار سے اور پتنگ بازی کی صنعت سے منسلک لاکھوں افراد بے روزگار ہو گئے۔

وزیر اعلٰی مریم نواز شریف نے بسنت منانے کا نہ صرف دلیرانہ فیصلہ کیا بلکہ اسے تین دن تک بڑھا دیا۔ گو کہ دل بہت خوش ہوا لیکن انجانے خوف کا شکار رہا۔ ماضی کے تجربات کی وجہ سے یقین تھا کہ لوگ کس حد تک شرکت کریں گے۔ہر دم دھڑکا لگا رہا کہ حکومت ایس او پیز پر عمل کرا پائے گی یا نہیں؟ شہری عمل کرینگے یا نہیں؟ خدانخواستہ بڑے حادثات نہ ہو جائیں۔بچوں کے اصرار کے باوجود اس ڈر کی وجہ سے لاہور نہیں گیا ہلاکتیں ہوئیں تو دل پر بوجھ رہے گا کہ خونی کھیل میں شرکت کی۔بسنت ہوئی اور خوب ہوئی،حکومت نے بھرپور حفاظتی انتظامات کئے اور شہریوں نے بھی پابندیوں کی خوب پاسداری کی۔چند واقعات ہوئے لیکن وہ انفرادی غلطیاں اور کوتاہیاں تھیں جن کو روکنا کسی حکومتی مشینری کے بس کی بات نہیں۔کھلے دل کے ساتھ وزیر اعلٰی مریم نواز شریف اور تمام انتظامیہ جس نے یہ سب ممکن بنایا کی تعریف کی جانا چاہیے۔

تعریف اور تحسین کے بعد چند امور کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے تاکہ آئندہ برس بسنت اور بڑے پیمانے پر منانے کے ساتھ ساتھ ان قباحتوں کو دور کیا جا سکے جس وجہ سے اس تہوار پر پابندی لگی۔

اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہ تہوار پتنگ بازی کا ہی رہے محافل شراب و شباب منعقد کرنے کا نہیں، بسنت کی آڑ میں جو بھی یہ کوشش کرئے اس سے سختی برتی جائے۔جس سے دھاتی ،کیمیکل ڈور اور مختص سائز سے بڑی پتنگ برامد ہو اسے وہی سزا دی جائے جو ممنوع اتشیں اسلحہ رکھنے پر ہے۔ڈور اور پتنگ ہر کسی کو بنانے اور فروخت کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ قیمتوں میں کمی ائے،باقی یقین ہے کہ تہوار منانے والے خود اس کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے۔لاہور کے کامیاب تجربے کے بعد یہ مطالبہ تو بنتا ہے کہ رمضان المبارک کے بعد صوبے کے دیگر شہروں کے شہری بھی تفریح کے مستحق ہیں۔

مزید خبریں