پی پی رہنماءقادرمندوخیل ملک کے کرپٹ نظام کیخلاف کھل کر بول پڑے

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما عبدالقادر مندو خیل نے کہاہے کہ بیوروکریسی میں کرپٹ لوگ بیٹھے ہیں میں نے اسمبلی میں ان کےخلاف آواز اٹھائی ہے لیکن میری آواز کو دبا دیا گیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما عبدالقادر مندو خیل نے کہا کہ سسٹم کو چلنے کب دیا گیا ہے ؟سسٹم کو اختیارات کب دئیے گئے ہیں؟ اسمبلی کو اختیارات کب دئیے گئے ہیں؟ اسمبلی کو دوتہائی اکثریت کب دی گئی ہے ؟اسمبلی کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کب دیا گیا ہے؟ اسمبلی میں اپنی قانون سازی کی مرضی کب کرائی گئی ہے؟ اسمبلی کو اپنی مرضی کو معیشت سنبھالنے کا موقع کب ملا ہے ؟

انہوں نے کہاکہ یہ ساری چیزیں تو اب اسی طرح چلتی رہیں گی، پچھلے 77 سالوں میں بھی ایسا ہوتا آیا ہے اور اگلے 277 سال بھی اسی طرح چلتا رہے گا۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الیکشن میں جو بھی ہوا سب سے پہلے تو ظلم میرے ساتھ ہوا ہے ،میں فارم 45 لے کے پھر رہا ہوں لیکن میں پھر بھی کہتا ہوں کہ تمام لوگ اکٹھے بیٹھ کے ہمارے نوجوان اور ہمارے بچوں کے مستقبل کے لیے سوچیں۔

مندوخیل نے کہاکہ اگر اسی طرح ایک دوسرے کو گالیاں دیتے رہے تو کچھ نہیں بچے گا، کیا ہوگا ،احتجاج ہوگا ،پھر کیا ہوگا حکومت ٹوٹے گی، پھر کیا ہوگا ،نگران آجائے گا ،اس سے مسائل حل ہوجائینگے؟

انہوں نے کہا کہ مسائل حل ہوتے ہیں بات چیت سے اور مل بیٹھ کر، گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑوں، دھرنوں، مظاہروں سے مسائل حل نہیں ہوتے، اور مسائل کے حل کے لیے ہمیں مل کر بیٹھنا ہوگا۔

مزیدپڑھیں:فارم 45 اور47 اپلوڈ نہ کرنے کیخلاف درخواست پر الیکشن کمیشن کو نوٹسسز جاری

انہوں نے کہا کہ آٹھ فروری کو جتنی میرے حلقے میں دھاندلی ہوئی اورجتنا میرے حلقے میں میں نے سسٹم کو ننگا کیا پاکستان میں اس طرح کا کوئی بھی اور حلقہ نہیں ہوگا، ہم نے لوگوں کو رنگے ہاتھوں پکڑا ،لیکن پھر بھی رزلٹ میرے حق میں نہیں آیا، میں کون سے عدالتوں کے پاس جاؤں جو دنیا میں 139 نمبر پر آتی ہیں، یہ مجھے انصاف دیں گے؟

ان کا کہنا تھا کہ میں میڈیاکے توسط سے سیاسی جماعتوں سے کہنا چاہ رہا ہوں، پاکستانی عوام پر ترس کھائیں اور میں اسمبلی میں بھی یہی چیخ و پکار کرتا تھا اور میں اسے کرپٹ بیوروکریسی کے خلاف بات کرتا تھا، اس کرپٹ نظام کے خلاف بات کرتا تھا ۔

آخر میں ایک اور سوال کے جواب انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلے ہی اسلامی شرعی نفاذ موجود ہے مگر اس کو مجسٹریٹ کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے، میں نے ایک مرڈر کیس چلایا ہے، چار سال ہائی کورٹ میں کیس چلتا رہا ہے، چار سال بعد عدالت نے کہاکہ یہ ہمارا کیس نہیں ہے یہ تو شرعی عدالت کا کیس ہے، جب عدالتوں کا یہ حال ہوگا تو پھر ہم آگے کیا کریں گے ۔

شرع نظام کے نفاذکے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں اب برقع نہیں پہنیں گی لہذا اس ملک کو جمہوری ہی رہنے دیں ۔

مزید خبریں