کیف(روشن پاکستان نیوز) یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اعتراف کیا ہے کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل پہنچنے والے نقصانات کے باعث یوکرین کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی کی صورتحال پیچیدہ ہو گئی ہے، جبکہ لاکھوں گھرا بجلی سے محروم ہیں۔
ہفتے کے روز اپنے ٹیلی گرام چینل پر جاری بیان میں یوکرینی صدر نے بتایا کہ کیف، دنیپروپیٹروفسک اور خارکوف میں تھرمل پاور پلانٹس کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، دنیپروپیٹروفسک کے علاقے میں بجلی کے چار سب اسٹیشنوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی کی صورتحال مشکل ہے، دنیپروپیٹروفسک شہر اور اس کے گردونواح میں تقریباً دو لاکھ گھرانے بجلی سے محروم ہیں، جبکہ کیف کے علاقے میں 80 ہزار سے زائد گھرانوں کو بجلی فراہم نہیں کی جا رہی۔
برطانیہ، طوفان کے باعث 80 ہزار گھر بجلی سے محروم، متعدد پروازیں منسوخ، ایک شخص ہلاک
دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ روسی افواج نے یوکرین کے لاجسٹک اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ان تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے جو روسی وزارت دفاع کے مطابق یوکرین کے فوجی صنعتی کمپلیکس کی ضروریات پوری کرنے کیلئے استعمال ہو رہی تھیں











