هفته,  10 اکتوبر 2026ء
درویش ڈار کو ٹیچر ہیرو ایوارڈ، خدمتِ تعلیم، شجرکاری اور فروغِ مطالعہ کا اعتراف
درویش ڈار کو ٹیچر ہیرو ایوارڈ، خدمتِ تعلیم، شجرکاری اور فروغِ مطالعہ کا اعتراف

کالم: فکرِ فردا

تحریر: اقبال زرقاش

کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی کا راز بلند و بالا عمارتوں، وسیع شاہراہوں اور ظاہری چمک دمک میں نہیں، بلکہ ان مخلص انسانوں کی خاموش محنت میں پوشیدہ ہوتا ہے جو اپنے حصے کا چراغ جلا کر آنے والی نسلوں کے راستے روشن کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں میں گورنمنٹ ایلیمنٹری مڈل سکول دامان حضرو اٹک کے ہیڈ ماسٹر، ممتاز شاعر، ادیب اور محبتوں کے سفیر حافظ طارق محمود ڈار المعروف درویش ڈار نمایاں مقام رکھتے ہیں، جنہیں ٹیچر ہیرو ایوارڈ سے نوازا جانا دراصل ان کی تعلیمی خدمات، انتھک محنت اور جذبۂ خدمت کا اعتراف ہے۔ یہ اعزاز صرف ایک استاد کی کامیابی نہیں، بلکہ اس سوچ کی پذیرائی بھی ہے کہ اگر انسان کے دل میں خدمت کا جذبہ زندہ ہو تو محدود وسائل بھی بڑی تبدیلی کا راستہ نہیں روک سکتے۔ حافظ طارق محمود ڈار المعروف درویش ڈار کا شمار ان اساتذہ میں ہوتا ہے جو تدریس کو محض ملازمت نہیں بلکہ ایک مقدس ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک سکول صرف بچوں کو نصابی کتابیں پڑھانے کی جگہ نہیں، بلکہ کردار سازی، شعور کی آبیاری اور مستقبل کی تعمیر کا مرکز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے گورنمنٹ ایلیمنٹری مڈل سکول دامان حضرو اٹک کو ایک مثالی درس گاہ بنانے کے لیے اپنی صلاحیتوں، وقت اور توانائیوں کو بروئے کار لایا۔ تقریباً دس کنال پر محیط سکول کے وسیع احاطے کو سرسبز و شاداب بنانے کے لیے انہوں نے اپنے ہاتھوں سے درخت، پھول اور مختلف پودے لگائے۔ ان پودوں کی آبیاری اور نگہداشت کا کام بھی محض دوسروں کے سپرد کرکے مطمئن نہیں ہو گئے، بلکہ کلاس فور ملازم کی عدم دستیابی کے باوجود خود ان کی دیکھ بھال کرتے رہے۔ یہ منظر کسی ایسے معلم کی عملی تصویر پیش کرتا ہے جس کے لیے تعلیم کا مفہوم صرف تختۂ سیاہ پر حروف لکھنا نہیں، بلکہ بچوں کو اپنے عمل سے زندگی کے اسباق سکھانا بھی ہے۔ درخت لگانا بظاہر ایک معمولی کام دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ آنے والی نسلوں کے نام محبت، امید اور زندگی کا پیغام ہے۔ جو استاد اپنے ہاتھوں سے پودے لگاتا اور ان کی حفاظت کرتا ہے، وہ اپنے شاگردوں کو خاموشی سے یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی کی خوب صورتی تعمیر، نگہداشت اور ذمہ داری قبول کرنے میں ہے۔ سکول کے ماحول کو بہتر بنانے کے ساتھ درویش ڈار نے طلبہ میں مطالعے کا ذوق پیدا کرنے کے لیے بھی ایک قابلِ قدر قدم اٹھایا۔ انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت سکول میں لائبریری قائم کی، جو طلبہ کے لیے کتابوں کی دنیا سے آشنائی اور علم کے نئے دریچے کھولنے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ بلاشبہ کتاب کسی بھی قوم کی فکری تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ کتاب سے دوستی کرنے والا طالب علم نہ صرف امتحان میں بہتر کارکردگی دکھانے کے قابل ہوتا ہے بلکہ اس کے اندر سوچنے، سوال اٹھانے، دلیل سمجھنے اور زندگی کے معاملات کو وسیع تناظر میں دیکھنے کی صلاحیت بھی پروان چڑھتی ہے۔ ایسے وقت میں جب نئی نسل کا ایک بڑا حصہ موبائل فون اور ڈیجیٹل مصروفیات میں الجھ کر مطالعے کی عادت سے دور ہوتا جا رہا ہے، کسی سرکاری سکول میں لائبریری کا قیام ایک مثبت اور قابلِ تقلید اقدام ہے۔ یہ درویش ڈار کی دوراندیشی کا ثبوت ہے کہ انہوں نے تعلیمی ترقی کو صرف نصابی نتائج تک محدود نہیں رکھا بلکہ طلبہ کی ذہنی اور فکری نشوونما کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کیا۔ تعلیمی ادارے کی کامیابی کا ایک اہم پیمانہ طلبہ کی کارکردگی اور امتحانی نتائج بھی ہیں۔ درویش ڈار نے تدریسی عملے کی کمی جیسے مسائل کے باوجود تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور اچھے نتائج پیش کرنے کے لیے محنت جاری رکھی۔ وسائل کی قلت، افرادی قوت کی کمی اور انتظامی مشکلات سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کسی آزمائش سے کم نہیں ہوتیں، لیکن ایک باصلاحیت اور فرض شناس سربراہ اپنی حکمت عملی، محنت اور ٹیم کی رہنمائی سے ان مشکلات کے اثرات کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سکول کو ایک مثالی درس گاہ کے طور پر پیش کرنے کی ان کی کاوشیں اسی جذبے کی عکاس ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے اساتذہ کی خدمات کو صرف ایوارڈ دینے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ متعلقہ تعلیمی حکام ان کے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے سکولوں میں تدریسی عملے کی کمی دور کرنے، لائبریریوں کو مزید فعال بنانے اور تعلیمی ماحول کو بہتر کرنے کے لیے عملی اقدامات بھی کریں۔ اساتذہ کی حوصلہ افزائی اسی وقت حقیقی معنوں میں نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے جب ان کے جذبۂ خدمت کو ضروری وسائل اور ادارہ جاتی تعاون بھی میسر ہو۔ حافظ طارق محمود ڈار کی شخصیت کا ایک اور روشن پہلو ان کا ادبی حوالہ ہے۔ وہ معروف شاعر اور ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی سادگی، محبت اور انسان دوستی کے باعث بھی پہچانے جاتے ہیں۔ درویش ڈار اردو شاعری پر مشتمل شعری مجموعے ’وجد‘ کے خالق ہیں، جو ان کے ادبی ذوق، فکری گہرائی اور احساسات کی دنیا کا آئینہ دار ہے۔ ان کی شاعری میں لفظ محض اظہار کا وسیلہ نہیں رہتے بلکہ انسانی جذبات، زندگی کے تجربات اور باطنی کیفیات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کا ایک اہم حوالہ حضرو اٹک کی معروف ادبی تنظیم ’’بہارِ نو‘‘ بھی ہے، جس کے وہ بانی ہیں۔ یہ تنظیم علاقے میں ادبی سرگرمیوں کے فروغ، شعر و ادب سے وابستہ اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی اور ادبی ذوق کی آبیاری کے حوالے سے ایک نمایاں شناخت رکھتی ہے۔ یوں درویش ڈار کی شخصیت میں معلم، شاعر اور ادبی تنظیم کے بانی کے تینوں رنگ یکجا دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ایک طرف سکول کے احاطے میں پودے لگا کر ماحول کو سرسبز بناتے ہیں، دوسری طرف کتابوں کے ذریعے بچوں کے ذہنوں میں علم کی شمع روشن کرتے ہیں اور تیسری طرف شعر و ادب کی محفلوں کے ذریعے معاشرے میں احساس، شعور اور تہذیبی ذوق کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے قلم اور کردار میں ایک ایسا رشتہ دکھائی دیتا ہے جو لفظوں کو زندگی اور خیال کو عمل سے جوڑتا ہے۔ ان کا ادبی ذوق اور تعلیمی خدمت ایک دوسرے سے الگ نہیں، بلکہ دونوں کا مرکز انسان کی فکری، اخلاقی اور تہذیبی تربیت ہے۔ ان کے خاندان کو بھی مذہبی اور تعلیمی حوالے سے ایک خاص شناخت حاصل ہے، جو علم، اخلاق اور سماجی اقدار سے وابستگی کی روایت کو نمایاں کرتی ہے۔ ایسے خاندان معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی شناخت صرف خاندانی نام سے نہیں بلکہ ان اقدار سے بنتی ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں۔ درویش ڈار کو ملنے والا ٹیچر ہیرو ایوارڈ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ قوموں کا مستقبل ان کلاس رومز میں تشکیل پاتا ہے جہاں استاد خاموشی سے اپنا فرض ادا کر رہا ہوتا ہے۔ کسی استاد کی اصل عظمت اس کے عہدے یا اعزاز میں نہیں بلکہ ان ذہنوں میں ہوتی ہے جنہیں وہ علم کی روشنی عطا کرتا ہے، ان کرداروں میں ہوتی ہے جنہیں وہ سنوارتا ہے اور ان خوابوں میں ہوتی ہے جنہیں وہ تعبیر تک پہنچنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ درویش ڈار نے سکول کے ماحول کو بہتر بنانے، شجرکاری، لائبریری کے قیام اور تدریسی معیار کی بہتری کے لیے جو کوششیں کی ہیں، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ اخلاص کے ساتھ کی جانے والی محنت خاموش رہ کر بھی اپنا تعارف خود کراتی ہے۔ ان کی اس کامیابی پر انہیں دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، سلامتی، استقامت اور مزید کامیابیوں سے نوازے، ان کے علم و ادب کے چراغ کو روشن رکھے اور ان کی کاوشوں کو نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ بنائے۔ بلاشبہ درویش ڈار جیسے اساتذہ ہی قوم کے اصل معمار ہیں، جو کتابوں میں علم، کردار میں روشنی اور سکول کے ماحول میں زندگی کے رنگ بکھیر کر آنے والے کل کو آج سے بہتر بنانے کی جدوجہد کرتے ہیں۔

مزید خبریں