ابوظبی(روشن پاکستان نیوز) متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ فلائی دبئی کے معاون پائلٹ نے اسرائیل کے مرکزی ہوائی اڈے پر نائن الیون طرز کے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل نے جمعے کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے دبئی سے تل ابیب جانے والے مسافر طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کرنے والا معاون پائلٹ اسرائیل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مسافروں کے ٹرمینل کو نشانہ بناتے ہوئے خودکش حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
یو اے ای کے استغاثہ نے کہا کہ 29 سالہ عمانی شہری حمام الحمامی نے طیارے کے بھارتی پائلٹ پر ہنگامی صورتِ حال میں استعمال ہونے والی کلہاڑی سے حملہ کیا، لیکن وہ اپنے شدید زخمی ساتھی کو کاک پٹ کا حفاظتی دروازہ کھولنے سے روکنے میں ناکام رہا۔ اس دروازے کے کھلنے سے مسافروں کو حملہ آور پر قابو پانے کا موقع مل گیا۔
اس کے بعد مسافروں نے طیارے کو قابو میں لینے کی کوشش کی۔ طیارے میں موجود تقریباً 180 مسافروں میں ایک متبادل پائلٹ بھی شامل تھا، جو اس وقت ڈیوٹی پر نہیں تھا۔ اسی پائلٹ نے طیارے کو بحفاظت سعودی عرب میں اتارا۔
یو اے ای کے اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد سیف الشامسی نے جمعے کو بتایا کہ اماراتی حکام کی تحویل میں موجود الحمامی نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے ’’پہلے سے طے شدہ ایک دہشت گردانہ منصوبے‘‘ پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کی تھی، جس کا مقصد تل ابیب کے قریب بن گوریون ہوائی اڈے کے مسافروں کے ٹرمینل کو نشانہ بناتے ہوئے خودکش حملہ کرنا تھا، تاکہ ’’زیادہ سے زیادہ ممکنہ تعداد میں انسانی جانوں کا ضیاع‘‘ ہو۔
اٹارنی جنرل کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ دہشت گردانہ منصوبہ تھا، حملے کا مقصد زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا تھا اور ملزم نائن الیون حملے سے متاثر تھا، حملے کی تیاری کے لیے اس نے تل ابیب جانے والی 2 پروازوں کے دوران راستے اور ہوائی اڈے کا تفصیلی جائزہ لیا تھا۔
فلائی دبئی میں پیش آنے والا واقعہ دہشت گردی ہے: متحدہ عرب امارات
ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ شروع سے ہی اس ارادے کے ساتھ پائلٹ بنا تھا کہ کسی دن طیارے کو دہشت گرد حملے میں استعمال کرے گا۔حکام کے مطابق الحمامی آسٹریلیا میں تعلیم کے دوران انتہا پسند نظریات کی طرف مائل ہونا شروع ہوا تھا۔ الشامسی نے کہا کہ الحمامی انتہا پسندانہ لٹریچر اور آن لائن مواد پڑھنے کے ذریعے سخت گیر تکفیری نظریے سے متاثر ہوا۔ اس مواد میں دہشت گرد تنظیموں اور خودکش حملوں کی تعریف کی جاتی تھی۔
الحمامی نے جنوری میں فلائی دبئی میں نوکری شروع کی تھی، اس سے پہلے وہ 4 سال عمان ایئر اور دوسری کمپنی میں کام کر چکا تھا، الحمامی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اکیلا کام کر رہا تھا، تاہم تفتیش کار اب بھی اس بات کی چھان بین کر رہے ہیں کہ آیا اس منصوبے میں کسی اور کا بھی کردار تھا یا نہیں۔
الحمامی کی سرگرمیاں اور کئی ممالک میں تحقیقات
جب یہ انکشاف ہوا کہ الحمامی 2017 تک تقریباً دو سال آسٹریلیا میں طالب علم کی حیثیت سے رہا تھا اور اس نے انجینئرنگ کی ڈگری مکمل کیے بغیر ملک چھوڑ دیا تھا، تو گزشتہ ہفتے کے اختتام پر آسٹریلوی سیکیورٹی اداروں نے بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
نیوزی لینڈ کے حکام نے بھی اپنی تحقیقات شروع کر دی ہیں، کیوں کہ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ الحمامی نے آسٹریلیا میں اپنی ڈگری ادھوری چھوڑنے کے تقریباً ایک سال بعد نیوزی لینڈ میں پرواز کی تربیت حاصل کی تھی۔
اس بات پر بھی بڑے پیمانے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ الحمامی سیکیورٹی جانچ کے مراحل سے گزر کر اسرائیل جانے والی پرواز کے عملے میں شامل ہونے میں کیسے کامیاب ہوا۔
عمان سے تعلق رکھنے والے الحمامی نے 2023 میں بکنگھم شائر نیو یونیورسٹی سے فاصلاتی تعلیم کے ذریعے ایوی ایشن مینجمنٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ 2020 سے 2024 تک عمان ایئر سے وابستہ رہا، پھر 2025 کے اوائل میں رائل ایئر ماروک میں ملازمت اختیار کی اور وہاں کئی ماہ کام کرنے کے بعد جنوری 2026 میں فلائی دبئی میں شامل ہو گیا۔











