کھٹمنڈو (روشن پاکستان نیوز) نیپال میں ایک پن بجلی گھر (ہائیڈرو پاور اسٹیشن) میں تباہ کن سیلاب کے بعد اندھیری سرنگ میں مسلسل نو دنوں تک محصور رہنے والے 30 سالہ سنجے ساہ نے اپنی معجزانہ بقا کی دردناک داستان سنا دی ہے۔ وہ ملبے کے باعث آنکھوں کے زخمی ہونے کے خوف سے دن رات آنکھیں بند رکھنے پر مجبور رہے، یہاں تک کہ جب 9 دن بعد انہیں بچایا گیا تو وہ مشکل سے اپنی آنکھیں کھول پا رہے تھے۔
تفصیلات کے مطابق، غیر ملکی خبر رساں ادارے کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں سنجے ساہ نے بتایا: سرنگ کے اندر دیکھنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ زیادہ تر وقت میں آنکھیں بند رکھتا تھا کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ کہیں میرا پاؤں پھسلنے یا کسی چیز سے ٹکرانے سے میری آنکھیں ضائع نہ ہو جائیں۔ مسلسل ایسا کرنے سے بعد میں میرے لیے آنکھیں کھولنا بھی مشکل ہو گیا تھا۔
ہمالیائی گلیشیر پھٹنے سے آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد نیپال اور چین کے تبتی خطے میں اب تک 1,300 سے زائد افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 5,300 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔
ماتحت اسٹاف کو بچانے، خوراک کی عدم دستیابی اور روحانی سہارا
سنجے ساہ ریاست کی ملکیت والی نیپال الیکٹرسٹی اتھارٹی کے اپر ترشولی 3A ہائیڈرو پاور اسٹیشن میں بطور مکینیکل فورمین کام کر رہے تھے۔ جس چھ منزلہ پاور ہاؤس میں وہ پھنسے ہوئے تھے وہ پہاڑ کے اندر گہرائی میں تعمیر کیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ 9 دنوں کے دوران ان کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا، وہ صرف سیلابی پانی اور پہاڑی چٹانوں سے رسنے والا پانی پی کر زندہ رہے۔ انہوں نے کہا: جب ناامیدی گھیرنے لگتی تو میں ہندو مہا منترا (کرشنا بھگتی) کا جاپ شروع کر دیتا تھا۔ میں سوچتا تھا کہ اگر مجھے مرنا بھی ہے تو اتنی جلدی ہمت ہارنے کا کیا فائدہ؟ اس جاپ نے مجھے پرسکون رکھا اور مجھے خوف محسوس نہیں ہوا بلکہ ایک روحانی طاقت ملی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاور ہاؤس کی پانچویں منزل پر ایک سوراخ تھا جہاں سے وہ نیچے دیکھ کر چلاتے تھے کہ شاید کوئی اور زندہ ہو، لیکن کوئی جواب نہیں آتا تھا۔ سنجے ساہ کی ایک دو سالہ بیٹی اور 26 سالہ اہلیہ ہیں، جن کی یاد نے انہیں ہمت اور حوصلہ دیا۔
نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئی
سرنگ کا یکسر بدل جانا اور وقت کا اندازہ نہ رہنا
سنجے ساہ نے بتایا کہ وہ 10ویں دن نجات پانے تک وقت کا اندازہ مکمل طور پر بھول چکے تھے: مجھے لگا کہ صرف دو یا تین دن گزرے ہیں، لیکن جب مجھے معلوم ہوا کہ 10 دن ہو چکے ہیں تو میں دنگ رہ گیا۔
انہوں نے بتایا کہ سیلاب نے سرنگ کا نقشہ ہی بدل دیا تھا۔ سیلاب سے پہلے میں سرنگ کے ہر کونے سے واقف تھا، لیکن بعد میں برقی آلات بہہ چکے تھے، دیواریں گر چکی تھیں اور ملبے کے ڈھیر لگے تھے۔ ہر طرف شیشے اور ٹیوب لائٹس کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے جو میرے پاؤں میں چبھے۔
ریسکیو کے آخری لمحات
سنجے ساہ نے بتایا کہ بچائے جانے سے 10 سے 12 گھنٹے پہلے جب باہر کا ماحول کچھ پرسکون ہوا تو انہیں ایکسیویٹرز (کھدائی کی مشینوں) کے کام کرنے اور سیڑھیوں کے بجنے کی آوازیں سنائی دیں، جس سے ان کی امید مزید پکی ہو گئی۔
ان کے ساتھ پھنسے ہوئے 45 سالہ کبير مہارجن بھی شدید زخمی حالت میں ملے۔ سنجے کے مطابق سیلاب آنے کے وقت دونوں نے نیچے جانے کے بجائے چھٹی منزل کا رخ کیا تھا جہاں وہ شدیو افراتفری میں ایک دوسرے سے بچھڑ گئے۔
سنجے ساہ نے انتہائی غمزدہ انداز میں گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے کہا:سب سے دکھ کی بات یہ ہے کہ میں خود تو زندہ بچ گیا، لیکن سرنگ کے اندر موجود جن لوگوں کو میں نے باہر نکلنے کا مشورہ دیا تھا اور وہ باہر چلے گئے تھے، وہ سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ وہ منظر میرے لیے سب سے زیادہ دردناک ہے۔











