جمعرات,  10  ستمبر 2026ء
قرآن نے جو اختیار عورت کو دیا وہ حکومت کیسے چھین سکتی ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے خلع لینے والی خاتون کو 50 فیصد حق مہر واپس کرنے سے متعلق پنجاب کے قانون کے خلاف اپیل پر سماعت کرتے ہوئے معاملہ وزیراعلیٰ پنجاب کے نوٹس میں لانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں پانچ رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ نے کیس کی سماعت کی، دورانِ سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ وزیراعلیٰ پنجاب کے سامنے رکھا جائے کہ حکومت اس کیس کو چلانا چاہتی ہے یا نہیں۔

جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ خلع لینے پر حق مہر کا 50 فیصد واپس کرنے کا قانون صرف پنجاب نے بنایا ہے، انہوں نے سوال کیا کہ کیا پنجاب حکومت خواتین کے حقوق کے خلاف اس قانون کی پیروی کرنا چاہتی ہے؟ کیا وزیراعلیٰ پنجاب سے پوچھا گیا ہے کہ وہ اس کیس کو چلانا چاہتی ہیں یا نہیں؟

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پنجاب حکومت کو یہ کیس واپس لے لینا چاہیے، حکومت قرآن و سنت کی روشنی میں بتائے کہ یہ قانون کیسے درست ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے مزید کہا کہ خلع پر کیا دینا ہے اور کتنا دینا ہے، یہ عورت کا فیصلہ ہے، قرآن نے جو اختیار عورت کو دیا ہے حکومت اسے کیسے چھین سکتی ہے؟ حکومت قانون سازی کرکے عورت کے فیصلے کا اختیار کیسے طے کرسکتی ہے؟

جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ عورت کے مقام کو کم کرنے پر عدالت کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی، عورت کو دیا گیا حق مہر اس کی ملکیت ہوتا ہے، انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حق مہر کو کسی شرط کے ساتھ مشروط کیا جاسکتا ہے؟

ائف اسٹائل ریزیڈنسی جی تیرہ کے متاثرین کا منصوبہ فوری مکمل کرنے اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ

بینچ کے رکن جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ ہمارے نبی ﷺ نے بھی خلع پر عورت سے تحفے میں دیا گیا باغ واپسی کا پوچھا ۔ ان کے مطابق جس کام سے منع نہیں کیا گیا وہ غیر اسلامی کیسے ہوسکتا ہے؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے نزدیک حد مقرر کرنا غلط نہیں۔

قانونی پس منظر

پنجاب حکومت نے فیملی ایکٹ 2015 میں ترامیم کے ذریعے خلع کی صورت میں حق مہر کی واپسی کی حد مقرر کی تھی۔ اس قانون کے تحت خلع لینے والی خاتون کو حق مہر کا ایک مخصوص حصہ واپس کرنے سے متعلق قانونی طریقہ کار وضع کیا گیا۔

بعد ازاں وفاقی شرعی عدالت نے پنجاب حکومت کی جانب سے کی گئی اس قانون سازی کو خلافِ شریعت قرار دیا، پنجاب حکومت نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے، جس پر شریعت اپیلیٹ بینچ میں سماعت جاری ہے۔ سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 8 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

مزید خبریں