منگل,  08  ستمبر 2026ء
26 ملین بچوں کا اسکول سے باہر ہونا سنگین چیلنج، آرٹیکل 25-A پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر ایس او ایس فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں لٹریسی واک کا انعقاد کیا گیا، جس میں تعلیم کے حق، خواندگی کے فروغ اور اسکول سے باہر بچوں کو تعلیمی نظام میں شامل کرنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔

واک کی قیادت ایس او ایس فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبدالسلام نے کی۔ واک ایف-6 مرکز سے شروع ہو کر نیشنل پریس کلب اسلام آباد پر اختتام پذیر ہوئی۔ اس میں سماجی کارکنان، طلبہ، اساتذہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالسلام نے کہا کہ پاکستان میں 26 ملین بچوں کا اسکول سے باہر ہونا انتہائی سنگین قومی چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے محض اعلانات کافی نہیں بلکہ ٹھوس، مستقل اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 25-A پر اس کی روح کے مطابق مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور تعلیم سے متعلق اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے ہدف SDG-4 کے تحت کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں۔

ڈاکٹر عبدالسلام نے کہا کہ اسکول سے باہر بچوں کی بڑی تعداد چائلڈ لیبر کا شکار ہے، جبکہ کئی علاقوں میں بچوں کی تعداد کے مقابلے میں اسکولوں اور تربیت یافتہ اساتذہ کی شدید کمی ہے۔ حکومت کو تعلیم کو حقیقی معنوں میں ایمرجنسی قرار دے کر اس کے لیے مطلوبہ مالی وسائل مختص کرنے چاہئیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آج 26 ملین اسکول سے باہر بچوں کے مسئلے کو حل نہ کیا گیا تو یہ بچے مستقبل میں ناخواندہ اور غیر ہنر مند خاندانوں کی بنیاد بن سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں معاشی مواقع میں کمی کے ساتھ جرائم اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر بچے کو اسکول تک پہنچانا محض تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل، معیشت، امن اور سماجی استحکام کا معاملہ ہے۔ حکومت، نجی شعبے، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں اور عوام کو مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

واک کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کا کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہیں رہنا چاہیے اور 100 فیصد بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے اجتماعی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

مزید خبریں