اتوار,  30  اگست 2026ء
چیونگ گم اور ٹوتھ پیسٹ سے فالج اور دل کے دورے کا خطرہ ثابت ہو گیا

میونخ: چیونگ گم، ٹوتھ پیسٹ، جام، دہی اور آئس کریم جیسی مصنوعات میں ایک عام میٹھا مادہ (سویٹنر) استعمال ہوتا ہے، طبی سائنس دانوں نے تحقیق کے بعد انکشاف کیا ہے کہ یہ مادہ فالج، دل کے دورے (ہارٹ اٹیک) اور موت کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک ہے۔

زائلیٹول (Xylitol) ایک شوگر الکحل ہے جو بعض قدرتی غذاؤں میں بہت کم مقدار میں موجود ہوتی ہے۔ اسے کھانے کی اشیا، مشروبات اور منہ کی دیکھ بھال کی مصنوعات کو مصنوعی طور پر میٹھا کرنے کے لیے بھی شامل کیا جاتا ہے، لیکن اکثر ایسی مقدار میں جو قدرتی مقدار سے 1,000 گنا زیادہ ہوتی ہے۔

اس کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باوجود زائلیٹول کے صحت پر طویل مدتی اثرات کا وسیع پیمانے پر کبھی مطالعہ نہیں کیا گیا۔ اب اپنی نوعیت کے سب سے بڑے مطالعے میں محققین نے پایا کہ خون میں زائلیٹول کی زیادہ مقدار سے دل کے دورے، فالج اور موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یہ نتائج میونخ میں یورپی سوسائٹی آف کارڈیالوجی کی سالانہ کانگریس میں پیش کیے گئے، جو دنیا کی سب سے بڑی قلبی صحت کی کانفرنس ہے۔ ریسرچ کے دوران محققین نے 17,710 افراد کا جائزہ لیا اور ان افراد کے درمیان موازنہ کیا جن کے خون میں زائلیٹول کی سطح سب سے زیادہ تھی (اوپر کے 25 فی صد) اور ان افراد کے درمیان جن کی سطح سب سے کم تھی (نچلے 25 فی صد)۔

وہ عام چیز جسے دہی میں شامل کرکے آپ معدے کی صحت کو بہترین بنا سکتے ہیں

جن افراد میں زائلیٹول کی مقدار سب سے زیادہ تھی، ان کے 6 سال کے اندر مرنے یا دل کا دورہ یا فالج ہونے کا امکان ان افراد کے مقابلے میں 57 فی صد زیادہ تھا جن میں اس کی مقدار سب سے کم تھی۔ حتیٰ کہ 30 سال بعد بھی ان میں ان قلبی بیماریوں میں سے کسی ایک کا شکار ہونے کا امکان 18 فی صد زیادہ تھا۔

محققین نے یہ بھی پایا کہ عمر یا جنس کچھ بھی ہو، خون میں زائلیٹول کی مقدار بڑھنے کے ساتھ دل اور خون کی نالیوں سے متعلق مسائل کا خطرہ بھی بڑھتا گیا۔ محققین نے یہ بھی پایا کہ یہ خطرہ موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور خون میں چکنائی کی مقدار جیسے عوامل سے بھی وابستہ نہیں تھا، جس کی وجہ سے عام طور پر لوگ کم کیلوری والی غذائیں استعمال کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

اس مطالعے کے مصنف ڈاکٹر مارکو وٹکوسکی، جو برلن کے شاریتے یونیورسٹی اسپتال سے وابستہ ہیں، نے کہا کہ پچھلی تحقیقات میں بھی ہم نے پایا تھا کہ زائلیٹول پلیٹ لیٹس کی لوتھڑے بنانے کی صلاحیت کو بڑھا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا مصنوعی مٹھاس ایسے لوگ استعمال کرتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ یہ چینی کے مقابلے میں زیادہ صحت بخش ہیں، اور ضابطہ کار ادارے بھی عموماً انھیں محفوظ سمجھتے ہیں۔ لیکن عام آبادی میں ہمارے طویل مدتی نتائج اس بات کو نمایاں کرتے ہیں کہ ہم دل پر زائلیٹول کے اثرات کے بارے میں کتنا کم جانتے ہیں۔

پروفیسر ڈین اَٹار، جو یورپی سوسائٹی آف کارڈیالوجی کی کمیونیکیشن کمیٹی کے ماہر رکن ہیں اور اس تحقیق میں شامل نہیں تھے، نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو جدید معاشرے میں بڑے پیمانے پر قبول کیا جاتا ہے، اور ان کی سیفٹی ریٹنگز اچھی رہی ہے، تاہم اس مشاہداتی مطالعے میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زائلیٹول عام آبادی میں دل کے خطرات پر طویل مدتی منفی اثر ڈالتا ہے۔

فلاحی ادارے برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی سینئر ڈائٹیشن ڈیل اسٹینفورڈ نے کہا کہ زائلیٹول جیسی مصنوعی مٹھاس بہت سی غذاؤں اور مشروبات میں پائی جاتی ہے، اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ زیادہ صحت بخش انتخاب ہیں، اس لیے وہ ان کا استعمال اپنی توقع سے زیادہ کر لیتے ہیں۔ لیکن یہ مطالعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم سب کو پراسیس شدہ غذاؤں اور مشروبات کا استعمال کم کرنے کی ضرورت ہے، جن میں اکثر چینی، نمک یا مٹھاس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، اور متوازن غذا پر توجہ دینی چاہیے تاکہ اپنے دلوں کی حفاظت میں مدد مل سکے۔

مزید خبریں