پیر,  24  اگست 2026ء
ورزش کو معمول بنانا ڈپریشن اور انزائٹی جیسے امراض سے تحفظ فراہم کرتا ہے، تحقیق

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) ورزش کو جسمانی صحت کے لیے بہت اہم قرار دیا جاتا ہے مگر یہ عادت دماغی صحت کے لیے بھی مفید ہوتی ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

جرنل پلوس ون میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ معتدل جسمانی سرگرمیوں کو عادت بنانے سے ڈپریشن یا انزائٹی سے متاثر ہونے کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ جسمانی سرگرمیوں سے دوری کے نتیجے میں عام دماغی امراض جیسے ڈپریشن اور انزائٹی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اس تحقیق میں 18 سے 35 سال کی عمر کے 10 ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا تھا۔

ان افراد سے سوالنامے بھروائے گئے تھے تاکہ جسمانی سرگرمیوں کے دورانیے اور شدت کی تفصیلات حاصل کی جاسکیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جسمانی سرگرمیوں سے دوری اور ایک سال بعد دماغی امراض سے متاثر ہونے کے درمیان تعلق موجود ہے۔

بچوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے پر میٹا پر 57 کروڑ ڈالرز کا جرمانہ عائد

تحقیق میں بتایا گیا کہ ورزش کے تسلسل کو برقرار رکھنا اس کے دورانیے یا شدت کے مقابلے میں زیادہ اہم ہوتا ہے۔

اگر ہر ہفتے 10 گھنٹے جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنایا جائے تو عام دماغی امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے۔

مگر محققین کے مطابق ہر ہفتے کم از کم ڈھائی گھنٹے ورزش کرنے سے بھی دماغی صحت کو فائدہ ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنانے والے جوان افراد میں عمر میں اضافے کے باوجود ڈپریشن یا انزائٹی جیسے عام دماغی امراض کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ نتائج سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ورزش کا تسلسل برقرار رکھنا ڈپریشن یا انزائٹی سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ مشاہداتی تحقیق ہے مگر جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنانا دماغی صحت کے لیے ضروری ہے۔

محققین کے مطابق جوان افراد میں دماغی امراض بہت عام ہوتے جا رہے ہیں اور ڈپریشن سب سے عام مرض ہے۔

مزید خبریں