جمعرات,  06  اگست 2026ء
ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے فوری اور جامع اصلاحات ناگزیر ہیں، شہیر حیدر سیالوی

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان نظریاتی پارٹی کے چیئرمین شہیر حیدر سیالوی نے کہا ہے کہ پاکستان کا موجودہ انتظامی نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے اور ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے فوری اور جامع اصلاحات ناگزیر ہیں، قوم پرستی اور لسانی سیاست نے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچایا،پنجاب جیسے بڑے صوبے میں آبادی اور اضلاع کی تعداد کے پیش نظر نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان بھی مختلف انتظامی، معاشی اور ترقیاتی مسائل سے دوچار ہیں، جن کے حل کے لیے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ضروری ہے، عوام مہنگی بجلی کا بوجھ مزید برداشت نہیں کر سکتے، کالا باغ ڈیم سمیت نئے آبی ذخائر اور چھوٹے ڈیموں کی تعمیر، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی کی جائے، پاکستان نظریاتی پارٹی آئندہ بلدیاتی، کنٹونمنٹ اور عام انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی، حکومت نے مطالبات پر پیش رفت نہ کی تو پاکستان نظریاتی پارٹی عوامی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوگی۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پارٹی کے دیگرساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئےشہیر حیدر سیالوی نے الزام عائد کیا کہ چند سیاسی خاندان برسوں سے مختلف صوبوں پر حکمران ہیں، جس کی وجہ سے حقیقی جمہوریت اور عوامی نمائندگی متاثر ہوئی ہے، قوم پرستی اور لسانی سیاست نے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچایا، جبکہ پاکستان کے ہر شہری کو آئین کے مطابق ملک کے کسی بھی حصے میں رہنے اور روزگار حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں اعلیٰ شرحِ خواندگی کے باوجود انٹرنیٹ، بجلی، روزگار اور بنیادی سہولیات کا فقدان ہے، جس کے باعث نوجوان نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کا باصلاحیت نوجوان بیرون ملک جانے پر مجبور ہے، جو قومی نقصان ہے۔

اقوام متحدہ کی قرارداد پر امریکی ویٹو عالمی انصاف کی توہین ہے، شہیر سیالوی

چیئرمین پاکستان نظریاتی پارٹی نے کالا باغ ڈیم سمیت نئے آبی ذخائر اور چھوٹے ڈیموں کی تعمیر، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام مہنگی بجلی کا بوجھ مزید برداشت نہیں کر سکتے۔انہوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس کی جگہ”فاطمہ جناح انکم سپورٹ پروگرام” متعارف کرایا جائے، جس کے تحت مستحق خاندانوں کو کاٹیج انڈسٹریز، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ مستقل بنیادوں پر خود کفیل بن سکیں۔انہوں نے صحت کارڈ پروگرام میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات اور سرکاری اسپتالوں کی بہتری پر بھی زور دیا۔شہیر حیدر سیالوی نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے انہیں ووٹ کا مکمل حق دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت سیاسی سرگرمیوں پر غیر ضروری پابندیاں عائد کر رہی ہے اور مختلف شہروں میں ان کی جماعت کے جلسوں اور تقریبات کے لیے این او سی جاری نہیں کیے جا رہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان نظریاتی پارٹی آئندہ بلدیاتی، کنٹونمنٹ اور عام انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی اور کوئی حلقہ خالی نہیں چھوڑے گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ماضی میں طلبہ اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی نوجوانوں کو مرکزی دھارے کی سیاست میں آگے لایا جائے گا۔انہوں نے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ قومی مفاد میں ایک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے نئے صوبوں، آبی منصوبوں، آئی پی پیز اور معاشی اصلاحات سمیت دیگر مطالبات پر پیش رفت نہ کی تو پاکستان نظریاتی پارٹی عوامی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوگی۔

مزید خبریں