لاہور (روشن پاکستان نیوز ): لاہور کے بارڈر ایریا میں عرصے سے جاری منشیات کی سمگلنگ کے خلاف ایک بڑی اور بھرپور کاروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ یہ کاروائی اس وقت انتہائی اہم ہو گئی جب انکشاف ہوا کہ اس مکروہ دھندے میں نہ صرف بڑے نام اور بااثر سیاسی شخصیات ملوث ہیں، بلکہ محکمہ پولیس کے اپنے اہلکار بھی کالی بھیڑوں کا روپ دھار کر ان گینگز کی سرپرستی کر رہے ہیں۔
ڈولفن فورس کے اہلکار کی گرفتاری اور گٹھ جوڑ
تازو ترین کاروائی میں دیگر ملزمان کے ساتھ ساتھ ڈولفن فورس کا ایک اہلکار، جس کی شناخت “دلاور” کے نام سے ہوئی ہے، بھی رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔ یہ گرفتاری اس سنگین حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ منشیات کے یہ بین الاقوامی اور بین الصوبائی گینگز پولیس کے اندر موجود عناصر کی ملی بھگت کے بغیر اتنی آسانی سے کام نہیں کر سکتے۔ بارڈر ایریا کے دیہاتوں میں منشیات کی بلا روک ٹوک سپلائی نے نوجوان نسل کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
تباہ کن اثرات: نوجوان نسل خطرے میں
اس لعنت کے نتیجے میں، خاص طور پر کینٹ ایریا اور بارڈر سے ملحقہ دیہاتوں میں، اب تک تیس سے پینتیس نوجوان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ تیس سے زائد گھرانوں کی تباہی کی داستان ہے۔ میں اس مسئلے پر طویل عرصے سے آواز اٹھا رہا ہوں اور لکھ بھی رہا ہوں، لیکن اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔ نوجوان نسل کو اس ناسور سے بچانا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
ڈی آئی جی فیصل کامران سے اپیل: خفیہ انکوائری اور سخت ایکشن کا مطالبہ
محکمہ پولیس کو اب سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ ان کے اپنے اہلکار کیسے اس جرائم کے ساتھی بن گئے۔ محض کاغذی کاروائیاں کافی نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں، ڈی آئی جی لاہور، فیصل کامران صاحب سے پرزور اپیل کی جاتی ہے کہ وہ بارڈر ایریا میں تعینات تمام پولیس افسران اور اہلکاروں کی خفیہ انکوائری کروائیں۔ یہ انکوائری انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) یا پولیس کے اپنے مخصوص انٹیلیجنس ونگ سے کروائی جانی چاہیے۔
مطالبات:
جامع رپورٹ: بارڈر ایریا کے ان تمام پولیس والوں کی مکمل رپورٹ تیار کی جائے جن کے ان گینگز کے ساتھ رابطے یا گٹھ جوڑ کے شواہد ملیں۔
سخت قانونی کاروائی: رپورٹ کی روشنی میں، ان کالی بھیڑوں کے خلاف نہ صرف محکمانہ بلکہ سخت ترین قانونی کاروائی کی جائے تاکہ وہ دوسروں کے لیے عبرت کا نشان بنیں۔
شفافیت: اس لعنت کو ختم کرنے کے لیے ہم سب کو مل کر بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا اور آواز اٹھانی ہوگی۔ شفافیت اس عمل کی بنیاد ہونی چاہیے۔
یہ کاروائی ایک اہم سنگ میل ہے، لیکن منزل ابھی دور ہے۔ جب تک پولیس کے اندر موجود سہولت کاروں کا خاتمہ نہیں ہوتا، منشیات کی سمگلنگ کو مکمل طور پر روکنا ناممکن رہے گا۔











